حزب اللہ نے اپنا دفاعی دائرہ بحیرہ روم کے وسط تک بڑھا لیا ہے، صیہونی صحافی

شیعیت نیوز: اسرائیلی ای مجلے کے ساتھ گفتگو میں صیہونی صحافی یونی بن مناہم نے انکشاف کیا ہے کہ ایندھن کے حامل ایرانی بحری بیڑوں کے خلاف کسی بھی جارحیت کے حوالے سربراہ حزب اللہ کے سخت انتباہ پر غاصب صیہونی حکومت بری طرح خوف میں مبتلاء ہو چکی ہے۔
عرب چینل المیادین کے مطابق اسرائیلی ای مجلےنیوز-1نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی حکومت اس بات پر سخت خوف میں مبتلاء ہے کہ لبنان کی جانب گامزن تیل بردار ایرانی بحری بیڑے کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ کہیں پہلے سے بچھائے گئے جال میں نہ پھنس جائے کیونکہ اس صورت میں حزب اللہ لبنان کو تہران تل ابیب کے درمیان جاری سمندری جنگ میں براہ راست شمولیت کا بہانہ مل جائے گا!
اس صیہونی مجلے کے مطابق تیل بردار ایرانی بحری بیڑے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے بھرپور عسکری جواب پر مبنی حزب اللہ لبنان کے سخت انتباہ کا مقصد (غاصب) صیہونی حکومت کے خلاف دفاعی دائرہ تشکیل دینا اور کسی بھی ممکنہ عسکری تصادم کو روک کر لبنانی حدود سے بھی باہر بحیرہ روم کے درمیان تک اسرائیل کے خلاف نیا دفاعی توازن قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے مختلف علاقوں پر جارح سعودی فوجی اتحاد کا حملہ، ایک شہید متعدد زخمی
اس حوالے سے صیہونی مجلے کے ساتھ گفتگو میں غاصب اسرائیلی حکومت کے ساتھ وابستہ معروف صیہونی صحافی، یروشلم مرکز برائے عوامی امور میں سینیئر محقق اور اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر و چیف ایڈیٹر یونی بن مناہم نے کھلے بندوں اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نے اپنا دفاعی دائرہ وسیع کرتے ہوئے بحیرہ روم کے درمیان تک پہنچا دیا ہے۔
یونی بن مناہم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ کا خطرہ مول لینے کا کوئی فائدہ بھی ہے؟!
اس صیہونی ماہر نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے (وہ) راکٹ فائر کر کے (کہ جن کا جواب دینے سے صیہونی حکومت قاصر رہی تھی) پہلے جنوبی لبنان میں اپنا دفاعی دائرہ تشکیل دیا ہے اور اب وہ چاہتی ہے کہ ایران و اسرائیل کے درمیان کسی قسم کی ممکنہ بحری جنگ میں بھی ایک موثر فريق کی حیثیت سے قدم رکھ دے!
معروف صیہونی صحافی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ حزب اللہ سید حسن نصر اللہ نے اپنے آخری خطاب میں ایرانی بحری بیڑوں پر ممکنہ اسرائیلی يا امریکی حملے کے حوالے سے سختی کے ساتھ خبردار کیا ہے!
واضح رہے کہ سید مقاومت کے حالیہ خطاب کے بعد لبنان میں امریکی سفیر ڈورتھی شے نے لبنانی صدر کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں دعوی کیا تھا کہ واشنگٹن بیروت کی مدد کا ارادہ رکھتا ہے لہذا وہ لبنان کے لئے اردن سے بجلی اور مصر سے گیس فراہم کرے گا جس کے جواب میں سید حسن نصراللہ کی جانب سے اپنے آخری خطاب میں تاکید کی گئی تھی کہ امریکہ کی جانب سے لبنان کو بجلی و گیس کی فراہمی، عملی طور پر ناممکن ہے۔