استقامت، فلسطینیوں کا اسٹریٹیجک آپشن ہے، اسماعیل ہنیہ

23 اگست, 2021 11:04

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ استقامت فلسطینیوں کا اسٹریٹیجک آپشن ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اتوار کو "شمشیر قدس، آزادی کا دروازہ ” کے زیرعنوان منعقدہ اجلاس میں کہا کہ شمشیر قدس کارروائی اور آپریشن، دشمن کے خلاف جنگ کا سنگ میل تھا۔

حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ جب تک فلسطینی عوام اور استقامت کے کمانڈروں کے اندر جو کہ اپنے قبلہ اول سے وابستہ ہیں، جذبہ جہاد موجود ہے اس وقت تک بیت المقدس کو ہم سے کوئی بھی نہیں لے سکتا۔

اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ بیت المقدس ماضی اور حال میں مسلح جد وجہد کا مرکز رہا ہے اور اس کے لئے ہونے والی لڑائی مشکل اور شدید ہے اور استقامت، بیت المقدس اور اصولوں کی پابندی ہی فلسطین کے اتحاد کا راستہ ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے زور دے کر کہا کہ غاصبوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی ساز باز یا گفتگو نہیں ہوسکتی اور ہم اس غاصب حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور استقامت ہی ہمارا اسٹریٹیجک آپشن ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے مزید کہا کہ استقامت کو کمزور کرنے کا مطلب عرب ضمیر کو نقصان پہنچانا اور اس کے لئے خرچ ہونے والی اربوں کی رقم کی ناکامی ہے اور فلسطینی کاز ہی مسلم امۃ کا سب سے اہم ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان میں امریکی سفارت خانہ بحران کا مرکز ہے ، سید حسن نصر اللہ

دوسری جانب فلسطینی گروہوں نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ بلاشبہ ہم غزہ کی سرحدوں پرعوامی جدو جہد اور سرگرمیاں جاری رکھیں گے یہاں تک کہ غاصب صیہونی حکومت بیت المقدس اور ہماری قوم پر ظلم و ستم سے دست بردارہو جائے اور غزہ کا محاصرہ ختم کردے۔

فلسطینی گروہوں نے غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ تل ابیب انتظامیہ عام شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

درایں اثنا تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیاسی شعبے کے رکن ولید القططی نے کہا ہے کہ فلسطینی استقامت نے صیہونی دشمن کو یہ پیغام دیا ہے کہ ملت فلسطین محاصرے کی قیمت تنہا نہیں چکائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس محاصرے کی قیمت ہے اور غاصب صیہونی حکومت کو اپنی سیکورٹی اور استحکام کے عوض یہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

واضح رہے صیہونی حکومت نے سنیچر کو غزہ کے مشرقی علاقے الشجاعیہ میں فلسطینی مظاہرین پر حملہ کیا تھا ۔ صیہونیوں کی اس فائرنگ میں اکتالیس فلسطینی زخمی ہوگئے تھے جن میں بائیس بچے شامل تھے ۔

10:14 صبح اپریل 7, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔