امام زمانہ عج کے جانثار سپاہی ، شہید محرم علی کو ہم سے بچھڑے آج 24 برس بیت گئے

11 اگست, 2021 14:00

شیعیت نیوز: 11 اگست کادن عاشق امام زمانہ عج مرد مجاہد، فخر شیعیان پاکستان، شہید محرم علی کا یوم شہادت ہے، آج ملت جعفریہ کو اس عظیم شہید سے بچھڑے 24 برس بیت گئے ہیں لیکن امام زمانہ ؑ کے اس جانثار کی یاد آج بھی اس کے چاہنے والوں کے دلوں میں روشن چراغ کی مانند تابندہ ہے ، س حوالے سے شیعیت نیوز کی خصوصی رپورٹ مندرجہ ذیل ہے۔

1997ء میں کالعدم فرقہ پرست دہشتگرد جماعت سپاہ صحابہ کے رہنماء اور فرزند رسول خداؐ امام مہدی آخر الزمان عج کے گستاخ ضیاء الرحمٰن فاروقی اور اعظم طارق کو کیس کی سماعت کیلئے کوٹ لکھپت جیل سے بکتر بند گاڑی میں سیشن کورٹ لاہور لایا گیا تو ان کے سینکڑوں حامی استقبال کے لیے کھڑے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا س بات کا درس دیتا ہے کہ اسلام دشمن اور طاغوتی طاقتوں کے آگے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیئے، علامہ ناظرتقوی

جب دونوں افراد احاطہ عدالت میں داخل ہوئے اور جج کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے تو ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس میں ضیاء الرحمٰن فاروقی سمیت 23 افراد ہلاک جبکہ اعظم طارق سمیت درجنوں زخمی ہوگئے، اس دھماکے کے الزام میں شیعہ جوان محرم علی کو پولیس نے گرفتار کرلیا، اس وقت بھی نواز شریف کی حکومت تھی، عدالت کے حکم پر پہلے محرم علی کو 5 ماہ تک بدنام زمانہ ٹارچر سیل چوہنگ سنٹر لاہور میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں 23 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان حکومت کا عاشورامحرم الحرام تک تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان

شہید محرم علی موچی دروازہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک غیرت مند شیعہ جوان تھے، جس کا دل گستاخ امام زماں (عج) پر ہر وقت کڑھتا رہتا تھا، شہید محرم علی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے، شہیدِ ناموس امام زمانہ عج نے اپنی وصیت میں لکھا کہ اُن کے جنازے کو بینڈ باجے کے ساتھ لے جایا جائے اور کوئی اُنکی میت پر نہ روئے، جبکہ بعض شخصیات کا نام لیکر جنازے میں شرکت سے بھی منع کیا۔

انہوں نے یہ بھی وصیت کی کہ انہیں اپنے دوست (شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی)بانی رہنما امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے پہلو میں دفن کیا جائے، بلند قد اور مضبوط جسم کی طرح محرم علی کے ارادے اور عزم بھی چٹانوں کی مانند مضبوط تھا۔

4:06 صبح مارچ 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔