شیعہ قوم کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا بھیانک کھیل ضیاءالحق دورسے تاحال جاری

12 جون, 2021 12:17

شیعیت نیوز: آلِ سعود کی جانب سے دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں صہیونی ایماء پر سلفیت و ناصبیت کی پروموشن کیلئے امریکی کمک سے ڈالر اور ریال صَرف کرنا سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سابق کے اعتراف اور امریکی سینیٹ میں اس کے نتائج پر ڈسکشن کے بعد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

پاکستان کے سابق آمر حکمران ضیاء الحق کے دور حکومت سے تاحال وطن عزیز میں فرقہ وارانہ منافرت کی ترویج اور شیعہ قوم کے ساتھ ریاستی اداروں کا دہرا معیاراور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان میں پنجاب نصف ملک سے زیادہ آبادی اور وسائل کا حامل ہونے کیساتھ شیعہ عزاداری کی کثرت کے سبب داخلی و خارجی دشمنانِ عزاداری و دشمنانِ امام مھدی علیہ السلام کیلئے آنکھ میں کانٹے کی مثل ہے۔ پنجاب میں بڑے بڑے زمیندار اور ملز مالکان اور بڑے پیمانے پر کاروباری حضرات مکتبِ تشیع سے تعلق رکھنے کے سبب بھرپور عزاداری کے مراسم ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2021-22 صرف لفظوں کا ہیرپھیر، بتایا جائے کہ عام آدمی کوکیا ریلیف ملا؟علامہ ساجد نقوی

دشمن نے بم دھماکوں، اسلحہ و بارود سے تشیع کی طاقت کو توڑنے کی کوشش کی، جس میں وہ ناکام رہے۔ شیعہ تکفیر کے ذریعے شیعیت کو تنہا کرنا چاہا، جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ انتظامیہ کے ذریعے ایف آئی آرز، جلوسوں میں رکاوٹ، مجالس پر پابندی، سوشل میڈیا پر شیعہ جوانوں کے جذبات کو مشتعل کرکے 295A ،298A ،295C جیسی دفعات کے تحت ایف آئی آرز درج کروانے کی کوشش۔

ٹی وی چینلز پر کمزور شیعہ اسکالرز کو بلا کر شیعہ مسلمات پر حملہ اور ردعمل میں منبر سے خطباء کی مجالس پر ایف آئی آرز کی کوشش۔ شیعہ کتب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کروانے کی کوشش، تاکہ شیعیت کی ترویج رُک سکے، یہ سب کاؤنٹر ہوتا رہا، کیونکہ کسی بھی ایف آئی آر کے اندراج اور کتاب پر پابندی عائد کرنے کیلئے متحدہ علماء بورڈ پنجاب سے منظوری شرط ہے، کسی مجلس پر پابندی کیلئے امن کمیٹی سے منظوری شرط ہے۔

اپنے قیام سے لے کر محکمہ اوقاف پنجاب کی سفارش پر حکومت پنجاب ہر مسلک کے چار چار افراد کا ہر دو اداروں میں نوٹیفکیشن جاری کرتی رہی ہے۔ مگر اس مرتبہ ایک انتہائی متعصب شخص (جس کی آلِ سعود سے وفاداری کسی سے پوشیدہ نہیں) کو چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب بنا دیا گیا، محکمہ اوقاف پنجاب کو شیعہ دشمنی کا بھرپور موقع ملا، تاریخ میں پہلی مرتبہ بریلوی مسلک کے 10، دیوبند مسلک کے 9، اہلحدیث مسلک کے 6 اور شیعہ مسلک کے 5 افراد کو متحدہ علماء بورڈ پنجاب کا رکن بنایا گیا، یعنی 25/5 کا تناسب۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے ایران کی حق رائے دہی کی بحالی کی تصدیق کر دی، تخت ورانچی

ایسا ہی امن کمیٹیوں میں بھی کیا گیا، تاکہ شیعیت کو دبایا جائے، مجالس پر پابندی عائد ہو، کتابیں بین ہوں، ایف آئی آرز درج ہوں اور شیعہ دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں۔ اس کا اندازہ تب ہوا، جب اشرف آصف جلالی نے مخدومہ(س) کی شان میں گستاخی کی ایف آئی آر میں مطلوبہ دفعات شامل نہ ہوئیں۔

اے حیدر کرار کے مے خوار ولاء جاگ
تمھیں دشمن نے جھنجھوڑا ہے بحر خدا جاگ

اگر اب آواز بلند کرکے ناصبیوں کے اس حملے کو پسپا نہ کیا گیا تو پھر دیر ہو جائے گی۔

پھر پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

5:08 صبح اپریل 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔