سانحہ مسجد وامام بارگاہ باب العلم کراچی ،29 برس بیت گئے، تین شہیدوں کے ورثاء کو تاحال انصاف نا مل سکا

04 جون, 2021 12:25

شیعیت نیوز:سانحہ مسجد وامام بارگاہ باب العلم کراچی کو 29 برس بیت گئے ۔ اس المناک سانحے میں 3 شیعہ عزادارشہید ہوئے جن کے قاتل تاحال آزاد اور قانون کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ ان شہداء کے ورثاء آج بھی ریاست پاکستان سے انصاف کے طلبار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق4 جون 1992 کا دن ملت جعفریہ پاکستان کیلئے ایک اور سیاہ دن تھا جب سعودی نواز سپاہ یزید کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نےنارتھ ناظم آباد کے علاقے کی مرکزی شاہراہ پر قائم مسجد و امام بارگاہ باب العلم پر نوچندی جمعرات کی رات اس وقت فائرنگ کردی جب امام بارگاہ میںانجمن غلامان حُر ؑ کی جانب سے ماتم داری اختتام پذیر ہوئی تھی اور مومنین زیارت کیلئے صحن امام بارگاہ میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کلچرل قونصلر جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد ، البصیرہ ٹرسٹ اور جماعت اہل حرم کے اشتراک سےامام خمینی اور اتحاد امت اسلامی سیمینار کا انعقاد

ماتمی عزاداروں اور مسجد و امام بارگاہ کا دفاع کرتے ہوئے تین مومنین نے جام شہادت نوش کیا اور چار زخمی ہوئے جبکہ امام بارگاہ میں موجودباقی عزاداروں کو محفوظ کرلیاگیا۔شہید ہونے والوں میں میر سجاد محسن نقوی ابن سید نقی محسن نقوی،سید غلام حیدر(شہنشاہ)ابن سید اکمل حسین اور زاہد حسین ابن ذاکر حسین شامل ہیں۔

تینوں شہداء کو مسجد وامام بارگاہ باب العلم کےاحاطے میں ہی سپرد لحد کیا گیا چونکہ اس زمانے میں قبرستان وادی حسین ؑ کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ امام خمینیؒ کی 32 ویں پر ملک بھرمیں مجالس وسیمینارز کا انعقاد

واضح رہے کہ وطن عزیز پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں کو ریاستی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے۔

شیعہ نسل کشی کے دیگر تمام واقعات کی طرح اس واقعے میں ملوث قاتل دہشتگرد بھی نہ پکڑے جاسکے اور آج تک قانون کی گرفت سے آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔

ادارہ شیعیت نیوز کی جانب سے تمام قارئین سے شہدائے سانحہ مسجد و امام بارگاہ باب العلم کے ایصال ثواب کیلئے سورہ فاتحہ کی درخواست ہے۔

9:21 صبح اپریل 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔