مزار قائد دھرنا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی فارشیعہ مسنگ پرسنز نےریاستی اداروں کی مہلت ختم ہونے پر اہم اعلان کردیا
شیعیت نیوز : مزار قائد کے سامنے پرامن انداز میں جاری احتجاجی دھرنے کے 17ویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مرکزی رہنماؤں اور لاپتہ شیعہ عزاداروں کے اہل خانہ نے کہا کہ اپنے پیارے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنے کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہیں
علامہ احمد اقبال رضوی نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم 15دن سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مزارِ قائد کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں لیکن ریاستی اداروں کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی
جب تک آخری فرد بازیاب نہیں ہوتا دھرنا جاری رہے گا۔لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ملک گیر احتجاج کریں گے۔
علامہ حیدر عباس عابدی نے کہا کہ ہم احتجاجی تحریک کو جاری رکھیں گے اور صدر و وفاقی وزراء کے گھروں اور گورنر ہاوس کا گھیراؤ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جمعہ اور اتوار کو مُلک گیر علامتی دھرنے دیں گے۔
مُلک پہلے ہی حکومت کے پیدا کردہ بحرانوں کا شکار ہے ہم پاکستانی بھائیوں کو مزید مشکل میں نہیں ڈالیں گے ہم اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اپنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور میں نہتے پاکستانیوں پہ گولی چلانا قابلِ مزمت ہے اگر حکومت کوئی معاہدہ کرتی ہے تو پاسداری کیوں نہیں کرتی ہے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے مزاکرات کیے جاتے ہیں وعدے کیے ہیں پھر فراموش کردیا جاتا ہے ریاست کا یہ رویہ قابلِ مزمت ہے۔
علامہ صادق رضا تقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہر پاکستانی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔
اہل سنت علماء کرام کے خلاف کریک ڈاون کی مذمت کرتے ہیں ۔حکومت کریک ڈاون کے بجائے مزاکرات سے معاملات حل کرے۔
ملک میں دیگر شہریوں کو مسنگ کرنے کی مذمت کرتے ہیں ۔ملت جعفریہ مظلوموں کے ساتھ ہے
21 رمضان المبارک کو جلوس عزاء میں منظم احتجاج کیا جائے گا اور جلوسوں کو دھرنوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
علامہ دوست علی سعیدی نے کہا کہ لاپتہ افراد میں اگر کوئی مجرم ہے تو عدالتوں میں پیش کریں۔صدر پاکستان ،وزیراعظم پاکستان ہمارے مسنگ پرسن کو رہائی کے لئے فوری اقدامات کو یقینی بنائیں ۔







