اسرائیل کی ہٹ دھرمی، فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش میں تعاون سے انکار

10 اپریل, 2021 16:46

شیعیت نیوز: اسرائیلی وزیراعظم نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کرنے والی عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون سے انکار کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت فلسطین میں ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کرے گی۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پرانے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت کو اسرائیل کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا کوئی اختیار نہیں کیوں کہ اسرائیل نے تاحال نہ تو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی وہ اس کا رکن ملک ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اس سلسلے میں آئی سی سی کو باضابطہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات سے آگاہ کرے گی اور تفتیش روکنے کی استدعا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب لبنان میں حکومت نہیں بننے دے رہے، البنا اخبار کا الزام

آبزرویٹری نے اشارہ کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے 3 مارچ 2021 کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ہونے والے مبینہ جرائم کی سرکاری تحقیقات شروع کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ "اسرائیل” فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔

نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی فوج داری عدالت مجاز نہیں ہے ، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر نے 22 جنوری 2021 کو اس بات کی تصدیق کی اسرائیلی ریاست کے معاملے میں عدالت کے صرف علاقائی دائرہ اختیار میں ہی کام کررہی ہے یہ کہ فلسطین بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم آئین کی فریق ہے۔

واضح رہے کہ عالمی فوجداری کورٹ کے ججز نے اسرائیل کی اس دلیل کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا اور پراسیکیوٹر کو فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔

10:51 صبح اپریل 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔