ایران کی خاموشی، امریکا تذبذب کا شکار؛ ٹرمپ کی اہم میٹنگ بے نتیجہ
شیعیت نیوز : صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک انتہائی اہم میٹنگ کی، جس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف جنگ بندی کی آخری مہلت ختم ہونے کے قریب تھی اور دوسری طرف نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اینڈریوز ایئر بیس پر تیار کھڑا تھا تاکہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو سکیں۔
لیکن امریکی انتظامیہ کو ایک عجیب مشکل کا سامنا تھا اور وہ تھی ایرانیوں کی طرف سے مکمل خاموشی۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اس معاملے سے واقف تین حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے چند روز پہلے ایران کو معاہدے کے کچھ بنیادی نکات بھیجے تھے، جن پر مذاکرات سے پہلے اتفاق ضروری تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تہران سے کوئی جواب نہیں آیا، جس کی وجہ سے یہ شک پیدا ہوا کہ وینس کا پاکستان جانا کتنا سود مند ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ہارنے والا شرائط طے نہیں کرتا: ایران نے ٹرمپ کی جنگ بندی توسیع مسترد کر دی، مذاکرات سے انکار
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تو اس وقت تک بھی ایران کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔
پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی بڑھانے پر قائل کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گزارش کی تھی کہ وہ جے ڈی وینس کی روانگی سے پہلے ایرانیوں سے کسی قسم کا کوئی ردعمل حاصل کریں۔
دوسری طرف ایرانی حکام کے تیور بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہارنے والا فریق اپنی شرائط نہیں منوا سکتا اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب صرف فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔
سی این این نے دعویٰ کیا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ یورینیم کی افزودگی اور اس کے ذخیرے کے حوالے سے مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں، جو کہ امن مذاکرات کا سب سے بڑا تنازع ہے۔
ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اس میں توسیع کا انتخاب کیا، لیکن اس بار انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ اب بھی جنگ کا سفارتی حل چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی غیر مقبول جنگ کو دوبارہ چھیڑنے سے کترا رہے ہیں، جس کے بارے میں وہ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا جیت چکا ہے۔
تاہم مذاکرات میں تعطل ان مشکلات کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کو اپنی متعدد شرائط منوانے میں پیش آ رہی ہیں۔







