سانحہ چلاس، بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارکر شہید کیئےجانےوالوں کی آج 9ویں برسی منائی جارہی ہے

03 اپریل, 2021 12:48

شیعیت نیوز: پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن 3اپریل 2012 کہ جب سانحہ چلاس رونماہوا اور 12 شیعیان حیدرکرارؑ کو شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتارا گیا اور انہیں بیابان میں گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ سانحہ چلاس گلگت بلتستان کی تاریخ کا بدترین افسوسناک واقعہ ہے۔ سانحہ چلاس جیسے اندوہناک واقعے سے دلوں کو جو زخم پہنچے ہیں وہ مندمل ہونا ممکن نہیں۔ سانحہ چلاس کے مجرموں کو تاحال کسی قسم کی سزا نہ ملنا افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ چلاس کو آج 9 برس مکمل ہوگئے، اس وہشت ناک سانحے میںسعودی نواز کالعدم لشکر جھنگوی کے سفاک دہشت گردوں نے مسافر بسوں سے شیعیان حیدر کرارؑ کو شناختی کارڈ دیکھ کر نیچے اتارا اور انہیں بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالاتھا ۔اس سانحے میں شہید ہونے والے کئی ایک شہداء کی لاشیں دریامیں بھی پھینک دی گئی تھیں جو کئی روز گذرنےکے بعد برآمد ہوئی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں: انجمن الذوالفقار کے روح رواں ایس ایم نقی کا اہل خانہ و رفقاء کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

افسوس کی بات یہ ہے کہ 9 برس گذر جانےکے باوجود دہشت گردی کے اس سفاکانہ واقعے میں ملوث کسی ایک بھی مجرم کو تاحال سزا نہ دی جاسکی۔ اس سانحے کی مکمل ویڈیو دہشت گردوں کی جانب سے جاری کی گئی تھی جس میں واضح دیکھا جاسکتا تھا کہ کیسے درندہ صفت خونی دہشت گرد نعرہ تکبیر کے ساتھ ہاتھ پس پشت بندے شیعیان حیدر کرارؑ پر اندھا دھند گولیاں برسا رہے ہیںاور ان کے چہرے بھی نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پاکستان کی اولادوں کا اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئےقائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزارکے سامنے دھرنا دوسرے روز بھی جاری

جن کے گھروں سے ان کےعزیزوں کے لاشے اٹھے وہ آج بھی ریاست پاکستان سے اپنے پیاروں کے خون کیلئے انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں، ان کے زخم آج بھی تروتازہ ہیں۔ اس قوم نے پاکستان بنانے اور بچانے کیلئے ہزاروں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیااپنی جان ومال کی قربانیاں دیں اور اس کے صلے میں انہیں اپنی ہی قوم کے جوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے ۔

1:07 صبح مئی 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔