محب وطن نوجوانوں کاجبری لاپتہ ہونا ملکی عوام میں ریاستی اداروں کیلئے نفرت پیدا کر رہا ہے،علامہ حیدرعباس عابدی
شیعیت نیوز:جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنما علامہ حیدر عباس عابدی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 7سالوں سے ہمارے شیعہ عزادار تنگ و تاریک غیر آئینی زندانوں میں غائب ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ان کے اہل خانہ کی کوئی سنوائی نہیں۔محب وطن نوجوانوں کاجبری لاپتہ ہونا ملکی عوام میں ریاستی اداروں کیلئے نفرت پیدا کر رہا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہر دروازہ کھٹ کھٹا چکے ہیں اس حوالے سے ریاستی ادارے،عدلیہ،حکمران جماعتوں کے پاس جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے گئے۔مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے وزیر اعظم،آرمی چیف،چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقاتیں کیں مگر ان کی بازیابی کیلئے صرف تسلی کے سوائے کوئی خاطر خواہ کوششیں نہیں کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رہنما شیعہ علماءکونسل علامہ ناظرعباس تقوی نےشیعہ مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے 2اپریل کےدھرنے کی حمایت کردی
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے بار بار آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے محب وطن عوام کوجبری گمشدہ کرنا آئین کے آرٹیکل دس کیخلاف ورزی ہے۔آئین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مقتدر اداروں کے سامنے آواز اٹھائی مگر کوئی سنوائی نہیں محض شک کی بنیاد پر شیعہ عزاداروں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔عدلیہ اس غیر آئینی اقدام اورلا قانونیت کے خلاف بھی نوٹس لے۔شیعہ قوم کو دیوار سے لگانے کی سازش کی جارہی ہے۔مسنگ پرسن کا مسئلہ انسانی حقوق کی پامالی ہے گزشتہ 30سالوں سے ملک میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی ہوتی رہی ہے۔لاپتہ افراد اگر مجرم ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کوئٹہ میں شیعہ رہنمارشید طوری،جعفر علی کو بھی جبری لاپتہ کر دیا گیاہے ہم ہر فورم پر جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے مزاکرات کرتے رہے ریاستی اداروں،حکومتی مشینری کی جانب سے کوئی رسپانس نہیں دیا جارہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ31مارچ تک تمام شیعہ مسنگ پرسنز کو کورٹ میں پیش کیا جائے بصورت دیگرجوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنزکی جانب سے 2اپریل کو شہر قائد میں بھر پور دھرنا ہوگا۔جس میں ملک بھر سے جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ کراچی میں شامل ہونگے۔2اپریل تمام شیعہ تنظیمیں،ذاکرین،علمائے کرام، اکابرین سمیت عمائدین اس احتجاج میں بھر پور شریک ہونگے۔وزیر اعظم،آرمی چیف،چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ بوڑھی ماوں پر رحم کریں جن کا کوئی سننے والا نہیں ہے انہیں بازیاب کیا جائے اور اگر کوئی مسنگ پرسن اس دنیا میں نہیں ہے تو ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ انہیں چین آجائے۔







