ایران

جواد ظریف کی حلبچہ کے قتل عام کے ملوثین اور مغرب کی مصنوعی نیند کی داستان

شیعیت نیوز: ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک پیغام میں حلبچہ میں کیمیائی قتل عام کے لئے مغرب کی صدام کی حکومت کی حمایت کی یاد دلا دی۔

یہ بات محمد جواد ظریف نے منگل کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ 16 مارچ شہر حلبچہ میں کیمیائی قتل عام کی 33ویں سالگرہ ہے اور کچھ لوگ یہ یاد نہیں کرنا چاہتے کہ مغرب ہی نے صدام کو مہلک کیمیائی ہتھیاروں سے مسلح کیا تھا۔

ظریف نے کہا کہ کیمیائی گیس کی زہر آلودگی سے 5000 سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوگئے اور مغربی باشندے اب بھی ان کے ساتھ علاقائی بدانتظامی پر بیان کرنا چاہتے ہیں۔

26 جون 1987میں عراق کا ظالم آمر کے حکم کے ذریعے ایران کے مغربی سرحدی شہر ’’سردشت‘‘ پر کیمیائی بمباری نے اس شہر کو دنیا میں مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں کے پہلے شکار ہونے والے شہروں کی فہرست میں قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : شمالی بغداد میں واقع البلد امریکی ہوائی اڈے پر راکٹ حملہ

حلبچہ کے کرد علاقے پر کیمیائی بمباری ایک انتہائی خوفناک اور غیر انسانی جرائم میں سے ایک تھا جو 16 مارچ 1988 کو شام میں 2 بجے عراقی حکومت کے ذریعہ ہوا تھا۔ مغربی ممالک نے صدام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیار فراہم کیے تھے۔ یہ جرم مغربی رہنماؤں کی خاموشی سے ہوا تھا جسے ان کے اتحادیوں نے اطمینان کی علامت کے طور پر دیکھا تھا۔

واضح رہے کہ 16 مارچ 1988 کو عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین نے کردستان کے شہر حلبچے پر کیمیائی بمباری کا حکم دیا تھا، کہ جس کے نتیجے میں اس شہر کے 5000 افراد کہ جن میں بڑی تعداد میں معصوم بچے اور خواتین شامل تھیں، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، اس بمباری کو انسانی تاریخ کے ایک ہولناک او غیرانسانی ترین جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد صدام کی حمایت کرنے والی عالمی برادری اور مغربی حکومتوں کی خاموشی نے عراقی حکومت کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد سے ایران اور عراق کے متعدد علاقوں پر مسلسل حملہ کیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button