عراقی مزاحمت کاروں کا امریکی فوجی اڈے عین الاسد پر راکٹوں سے حملہ
شیعیت نیوز: عراق میں امریکہ کی دہشت گرد فوج کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ عراقی مزاحمت کاروں نے عین الاسد میں امریکی فوجی اڈے پر 14 راکٹ داغے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 107 میلی میٹر14 کاٹیوشا راکٹوں سے عین الاسد میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا یہ راکٹ 40 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
عراقی مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام کی سرحد پر امریکہ کے ہوائی حملے کے جواب میں عین السد میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی اتحاد کے ترجمان وین ماروٹو نے آج (بدھ کے روز) مغربی عراق کے صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد اڈے کے امریکی حصے پر راکٹ حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ عراقی اسد ائیر بیس پر عراقی وقت کے مطابق 20: 07 بجے 10 کاٹیوشا راکٹ فائر کیے گئے ،انہوں نے مزید کہا کہ عراقی فورسز حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور مزید معلومات کے بعد اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
ادھر السومریہ نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عراقی سکیورٹی انفارمیشن سینٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج صبح 10 راکٹ عین الاسد ہوائی اڈے سے ٹکرائے جس سے تھوڑا سا نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمِ مسیحیت کے روحانی پیشواپاپ فرانسس اورحضرت آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے درمیان ملاقات 5 مارچ کو ہوگی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے راکٹ لانچر کو دریافت کیا ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی،تاہم اے ایف پی نے آج کے حملے کے سلسلے میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ عین الاسد پر راکٹ حملے میں ایک ٹھیکیدار ہلاک ہوگیا،اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس شخص کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔
المیادین نے بغداد میں اپنے نمائندے کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والاٹھیکیدار امریکی تھا واضح رہے کہ یہ اعلان اس کے دو گھنٹے بعد کیا گیا جب عراقی ذرائع نے اطلاع کے بعد سامنے آیا ہے کہ عین الاسد اڈے پر امریکی فوجی اڈے کو راکٹوں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیاہے۔
واضح رہے کہ عراق کےمغربی صوبہ الانبار میں عین الاسد اور شمالی اربیل میں حیر ا دو امریکی بڑے اڈے ہیں جن میں سات ہزار فوجیوں کی گنجائش ہے۔







