سندھ ہائیکورٹ کا حکومت کو حراستی مراکز میں قید لاپتا افراد کی فہرست پیش کرنے کا حکم
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ مسٹر میمن لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

شیعیت نیوز: سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو حراستی مراکز میں قید لاپتا افراد کی فہرست پیش کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر وفاقی حکومت سے لاپتا افراد کے معاملے پر تازہ رپورٹس اور ملک کے حراستی مراکز میں قید شہریوں کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالتی حکم پر ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مزاحمتی قوتوں کا غزہ کو کورونا ویکسین کی فراہمی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ مسٹر میمن لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ ایڈیشنل آئی جی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لاپتا افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا جاتا ہے، ایک لاپتا شخص کے افغانستان سے تربیت حاصل کرنے کی بھی اطلاعات ہیں، پولیس لاپتا افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سماعت کے دوران لاپتا افراد کے اہلخانہ نے آہ و بکا کی۔ 2016ء سے لاپتہ سمیر کی والدہ عدالت میں پھٹ پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی حل ہے کہ پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لوں، عدالت میں ہی پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لیتی ہوں، جو حال ہمارا ہوا اللہ کرے، آپ سب کا ہو، آپ سب کی اولادوں کے ساتھ بھی یہی ہو، عدالت سے کچھ نہیں ہوتا تو ختم کرے یہ کیس، سی ٹی ڈی والوں نے بیٹے کو حراست میں لیا اور چھوڑنے کیلئے 80 ہزار روپے مانگے، بیٹے کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، بھوک سے مر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی،سعودی نواز خودکش حملہ آور ہلاک
عدالت نے لاپتہ سمیر کی عدم بازیابی پر اظہار برہمی کیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے ایس ایس پی سطح کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دیدیا۔ دوسرے لاپتا شہری کے اہلخانہ نے کہا کہ 7 سال سے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں، اگر بازیاب نہیں کرا سکتے تو بتا دیں، ہم عدالت نہیں آئیں گے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو طلب کرلیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے لاپتا افراد کے معاملے پر تازہ رپورٹس اور ملک کے حراستی مراکز میں قید شہریوں کی فہرست طلب کرلی۔ عدالت نے حکم دیا اگر رپورٹ نہ آئی تو وفاقی سیکرٹری داخلہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، لاپتا افراد کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، فوری بازیاب کرایا جائے۔