کرائم منسٹر کے نعروں کی گونج میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی کورٹ میں حاضری
شیعیت نیوز: بدعنوانیوں کے مقدمات کا سامنے کرنے والے خودساختہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی کورٹ میں پیشی کے موقع پر ان کے مخالفین نے مقبوضہ بیت المقدس میں مظاہرہے کیے ہیں۔عدالت کے باہر کی فضا ’’نیتن یاہو استعفا دو استعفاد دو‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق خودساختہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پیر کو دوسری بار مالی بدعنوانیوں کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کی ایک کورٹ میں پیش ہوئے۔
اس موقع پر کورٹ کے باہر اور اس کے اطراف کی سڑکوں پر موجود مخالفین کی بڑی تعداد نے بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
صیہونی میڈیا کے مطابق کے سیکڑوں سیکورٹی اہلکاروں نے عدالت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا جبکہ انٹرنل سیکورٹی ایجنسی شابک کے بھی درجنوں اہلکار بنیامین نیتن یاہو کی حفاظت کے لیے موقع پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : غاصب صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے درجنوں مکانات مسمار کردیئے
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج کے مطابق مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نیتن یاہو کے لیے کرائم منسٹر جیسے القاب لکھے ہوئے تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران، عدالت کے باہر موجود مخالفین کی جانب سے لگائے جانے والے نیتن یاہواستعفا دو استعفا دو کے نعرے کمرۂ عدالت میں بھی سنائی دے رہے تھے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے خود ساختہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف مالی بدعنوانیوں کے مقدمات کی سماعت مؤخر کردی گئی تھی اور چند ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر عدالت میں نیتن یاہو کو طلب کیا گیا۔
کہا جارہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی صیہونی کورٹ میں کسی بھی وقت، بنیامین نیتن یاہوکے خلاف فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کے دوسرے شرکائے جرم بھی اپنے اپنے وکلا کے ساتھ کورٹ میں موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیں : شام: داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش مل گئی
صیہونی عہدیداروں کی مالی اور اخلاقی بدعنوانیاں نئی بات نہیں ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے جب کسی وزیر اعظم کو اس کے عہدے پر رہتے ہوئے مالی بدعنوانیوں، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب پر کسی کورٹ کے روبرو طلب کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے دولت مند تاجروں سے رشوت لے کر انہیں فائدے پہنچائے اور بڑے اخبار سے خفیہ معاہدہ کر کے اپنے حوالے سے مثبت رپورٹنگ کرائی جبکہ اخبار مالک کو پیشکش کی کہ وہ ایسے قوانین کی حمایت کریں گے جس سے اخبار کے حریف کمزور پڑ جائیں۔ اس مقدمے میں اخبار کے پبلیشر پر بھی فردجرم عائد ہو چکی ہے۔
غاصب صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی پر بھی کرپشن، دھوکہ دہی اور مالی بدعنوانی کے کئی الزامات ہیں۔







