باب المندب کی بندش کا خدشہ، مشرقِ وسطیٰ بحران عالمی سطح پر پھیلنے لگا

28 مارچ, 2026 08:25

شیعیت نیوز : ایران-امریکہ-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق آبنائے ہُرمز کے بعد دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ باب المندب بھی بند ہونے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور اب یمن بھی عملی طور پر اس جنگ کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمنی گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جے ڈی وینس اور نیتن یاہو میں تلخ گفتگو، ایران جنگ پر اختلافات سامنے آگئے

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب بند ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت کا اہم راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ نہر سویز اور آبنائے ہرمز سے جڑی ہونے کے باعث عالمی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً 3.5 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے، جو عالمی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اگر یہ گزرگاہ بند ہوتی ہے تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب علاقائی نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، اور اگر حالات مزید بگڑے تو دنیا ایک بڑے معاشی اور جغرافیائی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

10:05 صبح مارچ 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔