اہم ترین خبریںسعودی عرب

سعودی حکمران آل سعود خاندان کی ایک ٹریلین چالیس کروڑ ڈالر کرپشن کا راز فاش

شیعیت نیوز: سعودی حکمران آل سعود خاندان یعنی بادشاہ، ان کی اولاد اور ان کے قریبی رشتے دار شاہ زادوں نے مالیاتی بدعنوانی میں دنیا کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔

آخری مرتبہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کے مذکورہ شاہی خاندان کو ایک ٹریلین چالیس کروڑ ڈالر دولت کا مالک بتایا تھا۔ یہ حجاز مقدس پر مسلط نجدی بادشاہ اور ان کے خاندان کا حال ہے کہ جسے اس مقدس سرزمین پر حکمران بنانے والا برطانوی سامراج تھا۔ اور اب حال یہ ہے کہ برطانیہ کے شاہی خاندان کی دولت سے 16گنا زیادہ دولت آل سعود خاندان کے پاس ہے۔

سعودی عرب کے اتحادی مغربی ممالک کے ذرایع ابلاغ میں بھی یہ خبریں شایع ہوتی رہی ہیں۔ پچھلے برس ترکی کے سرکاری میڈیا (ٹی آر ٹی ورلڈ) نے بھی سعودی عرب کے حکمران آل سعود خاندان کا یہ کچا چٹھا پیش کیا تھا۔

آل سعود نے اتنی دولت کہاں سے کمائی، اس سوال کا جواب بھی مغربی اور ترک ذرایع ابلاغ نے دیا ہے۔ آل سعود حکمران خاندان یعنی بادشاہ اور شاہ زادوں نے یہ دولت زیادہ تر اس تیل کے ذخائر سے کمائے ہیں جن پر انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے ناجائز قبضہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : جوہری معاہدہ بدلے گا نہ ارکان بدلیں گے، صدر ایران حسن روحانی

آرامکو نامی ادارہ سعودی حکمران خاندان کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ سعودی عرب کے عوام کو تکفیری ناصبیت وہابیت کی بس میں سوار کرکے انہیں خود کش بمبار بناکر اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے کے مشن پر لگاکر خود سعودی شاہ اور شاہ زادے امریکہ اور یورپی ممالک کے جوا خانوں میں عربستان نبوی ﷺ کی دولت لٹاتے رہے۔ حتیٰ کہ ان کی دیگر عیاشیوں کی سچی داستان ایک اوسط درجے کے مسلمان کا سر شرم سے جھکادیتی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے جس تیل پر ناجائز قبضہ کیا، یہ تیل شیعہ نشین علاقوں میں ہے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ شیعہ نشین علاقوں کے عوام کوسعودی شاہی لٹیروں نے برابر کے شہری حقوق بھی نہیں دیے۔ ان کے جید ترین پرامن علماء و قائدین کو شہید کردیا یا قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کررکھا ہے۔

بنیادی طور پر تیل کے ذخائر اور اس سے حاصل ہونے والی دولت پر پہلا حق وہاں کے شیعہ مسلمانوں کا ہے، جو پچھلے آٹھ عشروں سے سعودی عرب نے غصب کررکھا ہے۔ سعودی ذرایع ابلاغ بشمول العربیہ چینل اور اس کی ویب سائٹ سعودی عرب کے عوام کی دولت لوٹنے والوں کے گھر کی لونڈی کا کردار اداکررہی ہے۔

العربیہ اور دیگر سعودی ذرائع ابلاغ کی جانب سے سعودی شاہی خاندان کی بدترین عیاشیوں اور مالی کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لیے، سعودی بادشاہ، ولی عہد سلطنت اور اس کے کرپشن گینگ کے ناقابل معافی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے، آئے روز نت نئی جھوٹی خبریں نشر کی جاتی ہیں۔

اسی مقصد کے لیے ایک جھوٹی خبر ایران کی مستضعفین فاؤنڈیشن سے متعلق بھی العربیہ نے نشر کی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سعودی بادشاہ عبدالعزیز، اسکے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں اور ان کی اولادوں نے جتنی کرپشن کی ہے اتنا مال تو قارون کے خزانے میں بھی نہیں تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اس عالم خاک میں آمد سے آج تک کسی نے اتنی مالی کرپشن نہیں کی،جتنی آل سعود نے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور فرانس خطے میں فرقہ وارانہ جنگ بھڑکانے کے درپے ہیں، آیت اللہ عیسیٰ قاسم

العربیہ چینل نے اپنے ناظرین اور قارئین سے یہ خبریں تاحال چھپائے رکھی ہیں کیونکہ اس میں کام کرنے والا عملہ خود بھی اسی مالی کرپشن سے حاصل دولت سے تنخواہ پاتا ہے۔ ورنہ اصل خبر یہ ہے کہ جب سے محمد بن سلمان عرف ایم بی ایس ولی عہد سلطنت کے طور پر مسلط کیا گیا ہے تب سے شاہی خاندان کے دیگر افراد پر بھی مالی کرپشن کا ہی الزام لگاکر انہیں قید کردیا گیا تھا۔ حالانکہ قومی دولت لوٹنے میں سرفہرست خود ایم بی ایس کا نام آتا ہے۔

سعودی عرب میں لاقانونیت کی سب سے بڑی مثال آل سعود حکمران خاندان کا قانون سے بالاتر ہونا ہے۔ حتیٰ کہ آرامکو جو کہ قومی ادارہ ہے، اسکی آمدنی سے آل سعود خاندان نے اب تک کتنا کمایا ہے، اسکا ریکارڈ تک نہیں مرتب کیا گیا۔ دوسری طرف ایران میں مستضعفین فاؤنڈیشن کسی خاندان کی ملکیت نہیں اور نہ ہی ایران میں کوئی خاندانی حکومت قائم ہے۔ ایران میں اسلا می جمہوریت ہے جہاں اہل سنت کو بھی پارلیمنٹ میں اور مجلس خبرگان رہبری میں نمائندگی حاصل ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب ہے جہاں اہل سنت بھی اپنے عقیدے کے اظہار نہیں کرسکتے۔ نہ وہاں جشن عید میلاد النبی ﷺ کی اجازت ہے اور نہ ہی بزرگان دین کے مزارات بنانے کی اجازت ہے۔ حتیٰ کہ بزرگان دین کی خستہ حال قبر پر زیارت کی اجازت بھی نہیں ہے۔ سعودی عرب کے حکمران خاندان اور اسکے حامی مولویوں کا پورا وجود اسلام دشمنی اور عربوں سے خیانت پر مبنی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button