اہم ترین خبریںایرانشہید قاسم سلیمانی (SQS)

ہزاروں لوگ شہید قاسم سلیمانی کے راستے پر گامزن ہیں۔ زینب سلیمانی

شیعیت نیوز: امریکی فضائی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی امریکہ پر برس پڑیں۔

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے روسی نیوز چینل کو دیئے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا کہ ایرانی عوام ڈونلڈ ٹرمپ اور نومنتخب صدر جوبائیڈن میں کسی قسم کے فرق کے قائل نہیں ہیں۔

رشیا ٹو ڈے کے ساتھ انٹرویو کے دوران زینب سلیمانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور جو بائیڈن میں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اور ان کی پالیسیوں میں بھی کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کابل میں کار بم دھماکہ، ڈپٹی گورنر اپنے سیکرٹری سمیت جاں بحق

زینب سلیمانی نے کہا کہ ٹرمپ نے میرے والد کے قتل کا حکم صادر کیا اور جوبائڈن نے اس اقدام کی حمایت کی، بنابریں ٹرمپ اور جو بائیڈن میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کا جو بائیڈن دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل کے لئے اوباما کے ہم فکر تھے، ٹرمپ اور جو بائیڈن میں کیا فرق ہے؟ کس قسم کی تبدیلی کا امکان ہے۔؟ ان کی فکر ایک ہی ہے کوئی فرق نہیں ہے۔ ہمارے لئے دونوں ایک جیسے ہیں۔ ہماری مشکل امریکی حکومت کی پالیسیاں ہیں کہ جن میں تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار نہیں کرسکتے، انڈونیشیا اور تیونس کا اعلان

زينب سلیمانی نے مزید کہا کہ میرے والد نے اپنا فریضہ بخوبی ادا کیا۔ یہی چیز امریکیوں کے آگ بگولا ہونے کا سبب بن گئی۔ آپ جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ جس منصوبے کو بھی آگے بڑھاتا ہے وہ خاک میں مل جاتا ہے، وہ ہر طریقے سے ایران پر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے، شکست اس کا مقدر بن جاتی ہے، کیوں؟

اس لئے کہ میرے والد نجات دہندہ تھے، میرے بابا درحقیقت ایک منجی تھے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے وطن کے لئے بلکہ تمام ملکوں کے خاطر کام کیا، انہوں نے داعش کو شکست دی، انہوں نے خطے کے تمام ممالک کی خاطر داعش سے جنگ کی، نہ صرف یمن، شام ، لبنان، ایران اور عراق بلکہ ساری دنیا کے لئے انہوں نے جنگ کی، میرے والد آخری ساںس تک، بلاوقفہ داعش کے ساتھ برسر پیکار تھے، وہ جانتے تھے کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں وہ بہت خطرناک راستہ ہے، اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس راہ میں قتل کردیئے جائیں، لیکن وہ ہرگز نہیں ڈرتے تھے، بلکہ شہید کے برخلاف وہ ان سے ڈرتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کس طرح سے میدان میں وار کرتے ہیں کس طرح عمل دکھاتے ہیں۔

زینب سلیمانی نے مزید کہا میرے والد کو قتل کرنے کے بعد امریکہ یہ سمجھ رہا تھا کہ سب کچھ ٹھہر جائے گا، اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے ، انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ایک طاقتور ترین جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا ہے۔ لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی، وہ بری طرح سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہيں کہ جنرل قاسم سلیمانی کے ختم ہوجانے سے سب کچھ ختم ہوجائے گا، ایسا ہرگز نہیں ہے یہ تو ابھی ابتداء ہے۔

زینب سلیمانی کا کہنا تھا کہ امریکہ جنرل قاسم سلیمانی کو مار کر سمجھتا ہے کہ وہ خلیج میں جیت گیا لیکن یہ اس کی بھول ہے، ہزاروں لوگ قاسم سلیمانی کے راستے پر ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button