پاکستانی زایونسٹ مقبوضہ یروشلم جانا چاہتے ہیں ؟
پاکستانی زایونسٹ مقبوضہ یروشلم جانا چاہتے ہیں ؟
اسرائیلی میڈیا نے پاکستانی زایونسٹ مظاہرے کی خبر جاری کی۔ کل ملاکر ایک درجن افراد میں سے چار کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے۔ ان میں سے ایک پر انگریزی میں ایک جملہ لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ و مفہوم ہے: یروشلم کی خاطر میں خاموش نہیں رہوں گا!۔
یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ انٹرنیشنل لاء کے مطابق غیر قانونی ہے
سوال یہ ہے کہ اصل مقصداگر یروشلم ہے تو اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے۔ انٹرنیشنل لاء کے مطابق یروشلم پر اسرائیل کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ تو اصل مسئلہ اگر یروشلم ہے تو مطالبہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے بلکہ مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ یروشلم پر ناجائز قبضہ کرنے والے اسرائیل کی ایسی کی تیسی کی جائے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نقصانات برائے پاکستان
مغربی یروشلم پر 1948ع سے ناجائز قبضہ
یروشلم کو عرب اور مسلمان بیت المقدس کہتے ہیں۔ یروشلم اسکا عبرانی زبان میں نام ہے۔ مغربی یروشلم پر اسرائیل 1948ع سے ناجائز قبضہ کرکے بیٹھا ہے۔ مشرقی یروشلم بیت المقدس پر جون 1967ع کی جنگ کے بعد سے اسرائیل کے ناجائز قبضے میں ہے۔ یہ ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جسے کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا۔
امت اسلامی اور مسیحی برادری کی صفوں میں خائن یعنی زایونسٹ
امت اسلامی اور مسیحی برادری کی صفوں میں جو خائن یعنی زایونسٹ موجود ہیں، انکے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے یہی ایک حقیقت کافی ہے کہ انکی مذہبی مقدسات پر اسرائیل کا ناجائز و غیر قانونی قبضہ ہے۔
Saudi regime blackmails Pakistan government to recognize Israel at earliest
مقبوضہ یروشلم میں
مقبوضہ یروشلم میں مسیحی مقدس ترین مقام چرچ آف سیپلکر (سے پول کر۔۔درست تلفظ) ہے۔ سیپلکر کو آسان رائج اصطلاح میں جائے مدفن کہتے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے والی جگہ یا اسکے بعد وہاں ان کے نورانی وجود کے جسد خاکی کو دفن کیا جانے والا کمرہ۔
نسل پرست یہودی ریاست اسرائیل کا مسیحیت سے کیا ربط
اسی مقبوضہ یروشلم میں بارہویں صدی کے سینٹ این چرچ میں جب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے حاضری دی تھی تو اسرائیلی اہلکاراس وقت بھی انکے ساتھ سائے کی طرح لگے رہنا چاہتے تھے۔ فرانسیسی چینل کے مطابق اسرائیل کا وہ عمل اشتعال انگیز تھا۔ میڈیا رپورٹس سے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھ گیا کہ فرانس جیسے بڑے یورپی ملک کی بھی اسرائیل کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔
پاکستانی زایونسٹ مقبوضہ یروشلم جانا چاہتے ہیں ؟
ایک نسل پرست یہودی ریاست اسرائیل کا اسلام اور مسیحیت سے کیا ربط و تعلق کہ جس اسرائیل کو ناتوری کارتا مذہبی یہودی جائز یہودی مذہبی ریاست ماننے کو تیار نہیں۔ یہودیت اور مسیحیت (عیسائیت) ایک دوسرے کئے لیے کب سے قابل قبول ہوگئے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی کو عیسائیت چھوڑ کر یہودی بننا پڑا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عیسائی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے یہودی جیرڈ کشنر سے شادی کی تو پتہ چلا کہ لڑکی جب تک یہودی مذہب اختیار نہ کرلے، شادی نہیں ہوسکتی۔ جب ٹرمپ جیسے بڑے ساہوکار آدمی کیجاتا ہے تو عام عیسائی کی کیا اوقات کہ وہ عیسائیت پر باقی رہ جائے!۔
پوری دنیا کے یہودی فلسطین کے شہری کیوں بن گئے؟
کرسچن زایون ازم محض ایک نقاب ہے ورنہ درپردہ یہ سارے نسل پرست یہودیوں کے غلام ہیں جو خود کو کرسچن زایونسٹ کہتے ہیں۔ اور اگر عیسائیت اور یہودیت کو ایک دوسرے سے کوئی پرابلم نہیں تو پھر یہ پوری دنیا کے یہودی فلسطین کے شہری کیوں بن گئے؟ ان یہودی عیسائی بھائی بھائی کو اپنے ملکوں میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔ اور فلسطین کی سرزمین کو فلسطینیوں کے لیے خالی کردینا چاہیے تاکہ فلسطینی دیگر ملکوں میں پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گذارنے پر مجبور نہ ہوں۔
جانو جرمن یہودی صحافی کے دوست جاوید چوہدری کو جواب
کھربوں گنا زیادہ حق فلسطینی رکھتے ہیں کہ انکا مطالبہ مانا جائے
اور جہاں تک بات ہے اس ایک یہودی کی جس کا نام اسرائیلی اخبار نے فیشل خالد لکھا کہ جو خود کو پاکستانی زایونسٹ کہتا ہے، تو اس سے سوال یہ ہے کہ مٹھی بھریہودی اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان سے کھربوں گنا زیادہ حق فلسطینی رکھتے ہیں کہ انکا مطالبہ مانا جائے۔ فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ نسل پرست دہشت گرد ہگانہ، لیوی، زیوی ٹائپ یہودی گروہوں کے قائدین پر مشتمل قبضہ مافیا کے فلسطین پر قبضہ ختم کیا جائے۔ یعنی اسرائیل جو کہ فلسطین کی سرزمین پر غیر ملکی نسل پرست یہودی دہشت گردوں کے قبضے کا نام ہے، اس ناجائز قبضے کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
پاکستانی زایونسٹ مقبوضہ یروشلم جانا چاہتے ہیں ؟
اب وہ نام نہاد مسلمان جو درپردہ کرسچن زایونسٹ کی طرح کی اصطلاحات کے نقاب میں چھپ رہے ہیں، انہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بیت المقدس یروشلم پر اسرائیل کا غیر قانونی ناجائز قبضہ ہے۔ کہنے کی حد تک بیت المقدس، مسجد اقصیٰ کے خادم حرمین شریفین کا عہدہ اردن کے پاس ہے لیکن عملاً اردن کی اپنی کوئی رٹ وہاں نہیں ہے۔
خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم ؑکا مزار مقدس
کہنے کو بہت سے اور دلائل بھی موجود ہیں۔ محض ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر پر، مسجد یا چرچ پر پاکستان میں کوئی دوسرا قبضہ کرلیتا ہے تو واشنگٹن ڈی سی تک سے شور مچتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی نہیں ہے۔ تو فلسطین جس میں بیت المقدس بھی ہے تو بیت اللحم بھی ہے، چرچ آف سیپلکر بھی ہے تو چرچ آف نیٹیویٹی بھی ہے۔ القدس اور مسجد اقصیٰ بھی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یادگار بھی ہے۔فلسطین ہی میں خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم ؑکا مزار مقدس بھی ہے۔
فلسطین ایک عرب ریاست جس میں مسلمان اور عرب دونوں ہی شامل ہیں
ان حقائق کی روشنی میں پاکستانی قوم کا شروع سے مطالبہ ہے کہ مقبوضہ یروشلم کو اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزاد ہونا چاہیے، اسے فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ جب ایسا ہوجائے گا تو بغیر کسی روک ٹوک کے پاکستانی بھی یروشلم جایا کریں گے، اس وقت کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ فلسطین ایک عرب ریاست ہے جس میں فلسطین کے مسلمان اور عرب دونوں ہی شامل ہیں۔ تو جو اپنی مسلمان اور مسیحی قوم کے حق کا دفاع کرنے کی بجائے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کررہے ہیں، وہ خود ہیں کون؟
غیر ملکی یہودیوں کے قبضے کی حمایت کرنے والے کسی طور اسلام اور مسیحیت کے حقیقی پیروکار نہیں
اس سرزمین پر غیر ملکی یہودیوں کے قبضے کی حمایت کرنے والے کسی طور اسلام اور مسیحیت کے حقیقی پیروکار نہیں ہوسکتے۔ اگر یہ حقیقی پیروکار ہوتے تو کم سے کم فلسطین کے مظلوم عربوں کا ساتھ دیتے کیونکہ عرب کا مطلب ہی مسلمان اور عیسائی دونوں ہیں۔ بجائے حق کا ساتھ دینے کے، بجائے اپنوں کا ساتھ دینے کے، یہ لینڈ مافیا اسرائیل کا پیڈ کانٹینٹ بیچنے لگے۔
حیف ہے اس نوٹنکی پر!۔
عبدالقہارمومن
شیعیت نیوز اسپیشل
عراق کے خلاف سعودی عرب کی نئی سازشیں







