دنیا

اسامہ بن لادن کے قتل میں اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات بھی شامل تھیں، جان برینن

شیعیت نیوز: امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو بہت چالاک اور عیار سیاست دان ہیں، اسامہ بن لادن کے قتل میں اسرائیل سے ملنے والی معلومات بھی استعمال کی گئیں۔

اسرائیلی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں جان برینن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی سیاست کو ایک الگ رخ دیا، نیتن یاہو ذاتی طور پر بااصول یا بااخلاق شخص نہیں لیکن بہت چالاک اور موقع پرست سیاستدان ہیں۔

جان برینن نے کہا کہ نیتن یاہو کو اگر فلسطین کے دو ریاستی حل میں اپنا مفاد نظر آتا تو وہ اس پر اب تک عمل پیرا ہوچکے ہوتے۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی آبادکاری کا منصوبہ بھی اسرائیل کے دائیں بازو گروپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بنایا اور اس منصوبے کو امارات اور بحرین سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔

جان برینن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کا قتل امریکی آپریشن تھا، تاہم اس آپریشن میں اسرائیل کی انٹیلی جنس معلومات بھی شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی بڑی سائبر سیکورٹی کمپنی ہیک کر لی گئی

دوسری جانب امریکہ کی ایک عدالت نے ایک حکم جاری کر کے حکومت سے کہا ہے کہ وہ انٹیلی جینس ایجنسیوں سے کہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق معلومات کو منظر عام پر لایا جائے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے ایک جج پال اینگلمائر نے امریکہ کی خفیہ ایجنیسوں سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے حکومت مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق جو معلومات ان کے پاس ہیں، انھیں منظر عام پر لے آئيں۔ جج نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ حکومت، خفیہ ایجنسیوں کو یہ حکم دینے کی پابند ہے کہ وہ ترکی میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کیے جانے والے اس صحافی کے قتل سے متعلق جو معلومات ہیں ان کے بارے میں وضاحت کرے۔ اس حکم میں امریکی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا گيا ہے کہ اس کے پاس اس جرم سے متعلق صرف کچھ دستاویز ہیں۔ البتہ عدالت نے ان دستاویز کو عوام کے سامنے لانے کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔

جج اینگلمائر نے اپنے اس حکم میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو سال قبل فاکس نیوز کے اینکر کرس ولاس سے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس خاشقجی کے قتل سے متعلق ایک ٹیپ ہے جس کا خفیہ ایجنسیوں نے جائزہ لیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے ستمبر میں اپنے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ امریکی صدر نے نہ صرف یہ اس قتل پر پردہ ڈالا ہے بلکہ وہ اس کیس کے حقائق منظر عام پر آنے میں بھی رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button