اسلام ظلم کے خلاف ہے اور مظلوم کا حامی ہے، حمایت مظلومین کانفرنس
شیعت نیوز: جمعۃ الوداع یوم القدس کی مناسبت سے نیشنل پریس کلب، اسلام آباد میں سچ ٹی وی کے زیراہتمام حمایت مظلومین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں سیاسی و مذہبی شخصیات سمیت جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما شمیم شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری اخلاقی قانونی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کیلئے نعرہ بلند کریں۔ کشمیر میں ڈیمو گرافی کی تبدیلی کیلئے پانچ لاکھ لوگوں کو کشمیر میں بھارت کے مختلف علاقوں سے لاکر بسایا گیا ہے۔ دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ کشمیر میں لاک ڈاؤن سے کیا صورتحال ہے۔ لاک ڈاون اور کریک ڈاؤن کشمیریوں کو دونوں کا سامنا ہے۔ کشمیر میں نوجوانوں کو دیوار سے لگا کر قتل کیا جارہا ہے۔ آزادی ملنے تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کی تجدید ہے، علامہ ذاکرحسین نقوی
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میر باز کیتھران نے کہا کہ ماضی میں جب فلسطین میں کوئی زیادتی کا واقعہ وغیرہ ہوتا تھا تو حکومت کی جانب سے فلسطین کے سفیروں کو بلایا جاتا تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں مسئلہ فلسطین سے لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جو ہو رہا ہے، نجف میں جو ہو رہا ہے، کربلا، کشمیر، فلسطین میں جو ظلم روا رکھا گیا، ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، وہ مظلوم ہیں، ان کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیئے مگر وہ مظلوم اس لیے بھی ہیں کہ ان کے حق میں ویسے آواز نہیں اٹھائی جارہی کہ جیسے اٹھانی چاہیئے۔ میرباز کیتھران کا کہنا تھا کہ ہم او آئی سی یا اقوام متحدہ کے قراردادوں پہ اکتفا کیئے بیٹھے رہیں گے تو معاملہ حل نہیں ہونا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پابندی بھارت اور اسرائیل کیلئے نہیں تو ہمارے لیے بھی نہیں ہے۔ پورا عرب فلسطین کے معاملے پر خاموش ہے۔ اقوام متحدہ یا او آئی سی نے کچھ نہیں کرنا جب وہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کو نہیں مانتے تو ہم کیوں مانیں ہمارے اپنے تیل والے بھائی اپنی حکومتیں بچانے کے لیے یمنیوں پر حملہ کرتے ہیں، آج بھی ہمارے سات لوگ شہید ہوئے ہیں کل تک جموں کشمیر کو بھارت اپنا حصہ کہتا تھا اب گلگت بلتستان کو بھی اپنا حصہ کہتے ہیں، ہمیں متحد ہو کر کشمیر اور فلسطین کے لیے کچھ کرنا پڑے گا
یہ بھی پڑھیں: کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کی تجدید ہے، علامہ ذاکرحسین نقوی
حمایت مظلومین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ دنیا میں ظلم اور مظلومیت ہے اور یہ ہر دور میں موجود ہیں مگر تاریخ گواہ ہے فتح ہمیشہ مظلوم کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اسلامی ممالک کی بہت ذمہ داریاں ہیں، اسلامی ممالک اگر یکجا ہو جائیں تو ظلم ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے دوست و دشمن کیلئے کچھ پیمانے بنانے ہوں گے۔ پاکستان کا دوست وہی ہے کہ جو اس کی کشمیر ایشو پہ کھل کر حمایت کرتا ہے۔ جو کشمیریوں کی آزادی کی مانگ کرتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارے دوست وہی ہیں کہ جو کشمیر پہ ہمارا ساتھ دیں۔ عرب دنیا کو یہ سوچنا ہو گا اور اسے ملحوظ رکھنا ہوگا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود جو لوگ ایسے عناصر کو پاکستان کا دوست قرار دینے پہ مصر ہیں کہ جو کشمیر پہ پاکستان کا ساتھ نہیں دیتے تو پھر وہ عناصر پاکستان سے خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے عناصر پاکستان کے خائن ہیں اور آزادی کشمیر کے خائن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 66 سالوں سے گولان کی پہاڑیوں پہ اسرائیلی قبضے کو امریکہ نے درست مان لیا، یروشلم کو درالحکومت تسلیم کر لیا، امریکی صدر منہ زور گھوڑے کی طرح دنیا کے عالمی قوانین کو پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں نوجوانوں کی لاشیں ماؤں کے سامنے رکھ جاتے ہیں۔ قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا حکم خود امریکی صدر جاری کرتا ہے، کیا نام نہاد سپر پاور امریکہ ایک شخص سے اتنا خوفزدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یوم القدس یوم اسلام ہے، یوم اللہ ہے۔ کورونا کے باعث یوم القدس پہ ہماری ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہمیں ہر حوالے سے آواز اٹھانی ہوگی۔ مظلومین کشمیر و فلسطین کے حق میں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد اس وقت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پورے پاکستان میں یوم القدس بھرپور طریقے سے منایا جائیگا۔
یہ بھی پڑھیں: عالم اسلام کوقبلہ اوّل کی آزادی کیلئےعملی جدوجہد کرناہوگی،سراج اور خالد مشعل کی ٹیلیفونک گفتگو
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ بھارت کرونا بحران میں کشمریوں کی نسل کشی کررہے ہیں،ہمارے پڑوس میں افغانستان مشکلات میں شکار ہیں، گزشتہ دنوں کابل ہسپتال میں دھماکہ ہوا بہت سے بچے اور مائیں شہید ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کئی عشروں سے افغانستان کے عوام نشانہ بن رہے یہں۔ افغانستان میں ایک طرف عوام ہیں، دوسری طرف اقتدار کے پجاری ہیں اور ان کے اوپر امریکی تسلط ہے۔ ساری دنیا مظلومین کو بھلا چکی ہے، آج مظلومین کے حوالے سے بہت بڑا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ برمی مسلمانوں کا مسئلہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھلا دیا ہے۔ نہ انہیں ملائشیا قبول کر رہا ہے، نہ بنگلہ دیش قبول کر رہا ہے۔ تو عالم اسلام کو ان مسائل پہ سوچ بچار کرنی ہو گی اور ان کے حل کیلئے خصوص تگ و دو کرنی ہو گی۔ انہوں نے حمایت مظلومین کانفرنس کے انعقاد پہ علامہ افتخار نقوی کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جمعۃ الوادع یوم القدس کے طور پر مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ منایا جائے گاعلامہ عارف واحدی
سچ ٹی وی کے چیئرمین افتخار حسین نقوی نے کہا ہے کہ جمعۃ الوداع، یوم القدس دنیا بھر کے مظلومین کے حق میں آواز بلند کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ظلم کے خلاف ہے اور مظلوم کا حامی ہے۔ جہاں جہاں مظلوم ہیں، ہمیں بطور مسلمان ہر مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالم اسلام ایک بہت بڑی قوت ہے مگر ہمیں اقوام میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کلمہ گو ہونے کے ناطے ہم پہ فرض ہے کہ مظلوم کشمیری اور فلسطین کی حمایت کریں، اگر ہم ان مظلومین کی حمایت کرتے تو آج فلسطین و کشمیر میں یوں ظلم کا بازار گرم نہ ہوتا۔ علامہ افتخار حسین نقوی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اس ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ نو ماہ سے کشمیری لاک ڈاون میں ہیں، پورا عالم خاموش ہے اور زبانی کلامی قراردادیں دے رہے ہیں۔ کشمیری اور فلسطینی عوام کی حمایت کر کے انہیں مشکلات سے نکالنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو اس وقت ایک عالمی وبا کا سامنا ہے، اللہ تعالیٰ اس وبا سے سبھی کو محفوظ رکھے، امید ہے کہ اس وبا کی ویکسین جلد ہی بنا لی جائے گی مگر بھارت اور اسرائیل کو جو بیماری لاحق ہے اس کا موثر علاج صرف اور صرف عالم اسلام کے اتحاد میں پنہاں ہے، لہذا دنیائے اسلام کو اپنی صفوں میں اتحاد کو فروغ دینا ہو گا۔ کانفرنس کے اختتام پہ افطار کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔







