مقبوضہ فلسطین

اسرائیلی سرکشی کا مقابلہ صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ حماس

شیعت نیوز: فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ صیہونی سرکشی کا مقابلہ صرف اور صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے تاہم جب تک امت مسلمہ کے درمیان اتحاد حاصل نہیں ہوتا اور غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں فریقوں کو ترک نہیں کر دیا جاتا، غاصب صیہونی حکومت کو قابو میں لانا ممکن نہیں۔

حازم قاسم نے آج علی الصبح غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی طرف سے شام کے جنوبی علاقوں پر ہونے والے متعدد ہوائی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے شامی سرزمین پر حملہ کر کے اپنی رذالت اور سرکشی کو ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کو کیسے قیدی بنایا

دوسری طرف حماس نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے سیاسی بنیادوں پر سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جماعت کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں فلسطینی شہریوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ فوری بند کرے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے مرکزی رہنما عبدالرحمان شدید نے کہا کہ غرب اردن میں فلسطینیوں کی گرفتاریاں قومی وحدت کی کوششوں پر کاری ضرب ثابت ہو رہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کس کے مفاد میں فلسطینی سیاسی کارکنوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے شہریوں کی سیاسی بنیادوں پر ایسے وقت میں پکڑ دھکڑ جاری ہے جب دوسری طرف کورونا کی وبا نے فلسطینی قوم کا ناک میں دم کر رکھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل غرب اردن کے علاقوں میں اپنی خود مختاری کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ ایام میں فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے کورونا سے متاثرہ شہریوں میں امدادی سامان کی تقسیم کی کوشش کرنے والے متعدد شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں حماس اور دوسری فلسطینی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button