اہم ترین خبریںایران

کرونا وائرس کو مات دینے کے لئے ایران کی سپاہ پاسداران کا ایک اور کارنامہ

شیعت نیوز : ایران کی سپاہ پاسداران نے پانچ سیکنڈ میں کسی بھی مقام اور جگہ پر کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والے ایک اور پیشرفتہ سسٹم کی رونمائی کی ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے ماہرین نے کسی بھی جگہ پر کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والا دنیا کا پہلا سسٹم تیار کر لیا ہے۔ پانچ سیکنڈ میں کسی بھی مقام اور جگہ پر کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والے اس سسٹم کی رونمائی بدھ کے روز تہران میں ایک تقریب کے دوران انجام پائی۔

اس سسٹم کی تقریب رونمائی میں سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل حسین سلامی بھی موجود تھے۔اس موقع پر جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ عوامی رضاکار فورس بسیج کے سائنسدانوں کا تیار کردہ یہ سسٹم اپنی ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے لحاظ سے بالکل منفرد ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران: امام حسن مجتبی ہیڈ کوارٹر کو پسماندہ افراد کی خدمت کے لئے تشکیل دیا گيا ہے

یہ سسٹم میگنیٹک فیلڈ پیدا کر کے، پانچ سیکنڈ کے اندر اندر آلودہ علاقے کا پتہ لگاتا ہے اور سو میٹر کے اندر موجود کسی بھی سطح یا فرد کے اندر کورونا وائرس کی تشخیص دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سسٹم کا نام مستعان ایک سو دس رکھا گیا ہے اور دنیا میں اب تک ایسا کوئی بھی سسٹم موجود نہیں ہے۔

درایں اثنا ایران کے عوام نے مومنانہ امداد کے نام سے ملک گیر تحریک شروع کر دی ہے جس کا مقصد معاشرے کے غریب طبقات اور ایسے لوگوں کو مدد فراہم کرنا ہے جو کرونا وائرس کی پھیلاؤ کی وجہ سے روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈبلیو ایچ او کے خلاف امریکی اقدام انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ عباس موسوی

اس تحریک کا پہلا مرحلہ گیارہ اپریل سے یاصاحب الزمان کے نعرے کے ساتھ شروع ہوا ہے اور رمضان المبارک کے اختتام تک جاری رہے گا۔ملک کی مختلف عوامی اور سماجی تنظیمیں اور ادارے بھی مومنانہ امداد کے نام سے شروع کی جانے والے اس تحریک میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل رمضان شریف نے اعلان کیا ہے کہ سپاہ کے تمام کمانڈروں نے اپنی تنخواہ کا بیس فی صد حصہ مومنانہ امداد کی اس تحریک میں عطیہ کر دیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ اور دیگر اعلی عہدیداروں نے بھی تین ماہ تک اپنی تنخواہ کا بیس فیصد حصہ کرونا سے متاثر ہونے والے غریب لوگوں کی مدد کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button