اہم ترین خبریںپاکستان

اب تک چار ہزار زائرین میں سے کسی ایک میں بھی وائرس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، شیخ میرزاعلی

شیخ میرزاعلی نے کہاکہ تفتان بارڈر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہاؤس میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ افراد کو بٹھایا گیا ہے

شیعت نیوز: اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے سینئر رہنما شیخ میرزاعلی نے کہا ہے کہ زائرین کی مشکلات کو آسان کر کے خوف و ہراس کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک چار ہزار زائرین میں سے کسی ایک میں بھی وائرس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گھر پہنچنے کے بعد ایک دو افراد میں وائرس کی موجودگی کا شبہ پایا گیا جو خطرہ سے باہر ہے۔ مشھد میں پھنسے اور تفتان کے کیمپوں میں موجود زائرین کو گھر جانے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام عالم میں باوقار مقام حاصل کرنے کیلئےجرات حیدر کرارؑ کو شعار بنانا ہوگا،علامہ راجہ ناصرعباس

شیخ میرزاعلی نے کہاکہ گلگت بلتستان کے زائرین کی مشکلات کے ازالہ کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کرونا وائرس کو پھیلنے سے بچانا عالمی چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کیلئے احتیاظی تدابیر ہر سطح پر کی جا رہی ہیں، چونکہ پڑوسی ملک ایران بھی کرونا سے متاثر ہے، ان اثرات سے بچاؤ کیلئے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں جس کا بنیادی مقصد وائرس کی موجودگی کی تصدیق کرنا ہے جو ماہرین کے مطابق جزوقتی اور آسان مرحلہ ہے لیکن اس وقت زائرین جن مشکلات سے دو چار ہیں نہایت تکلیف دہ ہیں، جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عورت مارچ سے پھیلنے والی بے حیائی کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے، علامہ جواد نقوی

شیخ میرزاعلی نے کہاکہ تفتان بارڈر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہاؤس میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ افراد کو بٹھایا گیا ہے۔ طبی سہولیات ناکافی ہیں، وائرس کی تصدیق کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، سرحد پار کر کے آنے والے تمام زائرین کو بغیر تصدیقی عمل سے گزارے ایک جگہ رکھا جا رہا ہے جس سے مشکلات بڑھنے کے ساتھ مزید بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی خوشنودی کی خاطر بھارتی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں، ترجمان آئی ایس او

ان کامزید کہنا تھا کہ ایران میں پھنسے اور تفتان کے کیمپوں میں موجود زائرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد چار ہزار ہو گی، جن زائرین کو تفتان بارڈر یا ائیر پورٹس پر تصدیقی مرحلہ سے گزارا گیا ہے ان کی تعداد بھی تقریبا تین ہزار کے لگ بھگ ہو گی، جن میں کسی ایک زائر میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جو زائرین اپنے گھروں کو پہنچے ہیں ان میں ایک دو افراد میں وائرس کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جن کی حالت بھی خطرہ سے باہر بیان کی جاتی ہے، ایسے میں چار سے پانچ ہزار زائرین کیلئے سنجیدہ اقدامات کا نہیں اٹھایا جانا متعلقہ ذمہ داروں کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان ابوطالب ؑ پر کسی اہل سنت کو شک نہیں ہوسکتا، قائداہل سنت پیرمعصوم شاہ

لہذا ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ مشھد میں پھنسے زائرین کو وطن لانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اور تفتان کے کیمپوں میں موجود زائرین کو تصدیقی مرحلہ سے گزار کر اپنے گھروں تک جانے کی اجازت دی جائے تا کہ زائرین کے اہل خانہ اور خطہ کے عوام کی تشویش کو دور کیا جاسکے۔ اس لئے کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری کسی بھی وبائی بیماری سے متعلق آگاہی دینا اور ضروری طبی سہولیات پہنچا کر خوف و ہراس کی روک تھام کرنا ہے، زائرین کے ساتھ حکومت کا حالیہ رویہ خوف و ہراس کو تقویت دے رہا ہے جو کسی صورت مناسب نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button