عمران خان عربی قرضوں کے عوض ملکی آزادی اور خودمختاری کا سودا نہ کریں، علامہ نیاز نقوی
کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے انکار، وزیراعظم کی پہلی تقریر سے انحراف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام اسلامی ممالک کیساتھ متوازن تعلقات رکھیں گے

شیعت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے کوالالمپور کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جرات مند بہادر اور پر اعتماد شخصیت ہیں، ان سے توقع تھی کہ وہ امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے مگر وہ ایسے ملک کے سامنے ڈھیر ہو گئے جو کثیرالملکی مسلکی عسکری اتحاد کے باوجود اپنے دفاع کی بھی سکت نہیں رکھتا، ترکی، ایران اور ملائیشیا جیسے خود دار ممالک پر سعودی عرب کو ترجیح دینا ملکی اور قومی مفاد کیخلاف ہے۔ ان تینوں ممالک نے اسرائیل کی ہمیشہ مذمت کی۔ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر جرات مندانہ موقف اختیار کیا جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل کا نہ صرف ان ممالک کیخلاف ساتھ دیا بلکہ اس صیہونی ریاست کا تحفظ کیا اور مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ کشمیر کے مسئلے پر سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک نے آج تک پاکستان کے موقف کی حمایت نہیں کی، جو کہ افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یاعلی ؑمدد کہنا جرم بن گیا،وہابی تکفیری ملانے ایک اہل سنت ملنگ کی تدفین رکوا دی
میڈیا سیل کی طرف سے جاری ایک بیان میں علامہ قاضی نیاز نقوی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے لئے گئے قرضوں کے عوض ملکی آزادی اور خودمختاری کا سودا نہ کریں۔ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے انکار، وزیراعظم کی پہلی تقریر سے انحراف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام اسلامی ممالک کیساتھ متوازن تعلقات رکھیں گے اور کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی ولی عہد کی بجائے، پاکستان کا مفاد امت مسلمہ کیساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر علامہ سبطین کاظمی کی زوجہ سمیت جہاز سے بلاجواز گرفتاری کی کوشش ناکام
علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ پاکستان دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا میزبان بھی رہا ہے، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا اس حوالے سے کردار بہت شاندار رہا کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کےاتحاد اور مضبوطی کے لیے کام کیا مگر اب اگر پاکستان سعودی عرب کی کی پالیسی کو اختیار کرے گا تو یہ نہ صرف مملکت خداداد کے اس حوالے سے شاندار ماضی اور خارجہ پالیسی سے انحراف ہوگا بلکہ یہ ملکی مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی استحکام کو لاحق خطرات ، آرمی چیف جنرل باجوہ کا اہم اعلان سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ کوالالمپور میں تمام اسلامی امت کے ممالک اکٹھے ہوئے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے سلگتے مسائل پر جاندار موقف اختیار کیا جائے گا جس سے فلسطین کشمیر روہنگیا اور دیگر مسائل ان کا حل نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی لائن کو فالو کیا تو یہ ملکی مفاد میں نہیں ہوگا کیوں کہ سعودی شاہی خاندان خود تذبذب کا شکار اور امریکی غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ مسلمانوں کو استعماری قوتوں کےسامنے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ امت مسلمہ کے معاملات کو درست کیا جا سکے۔