جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ کا آرمی پبلک اسکول کے شہید بچوں کی یاد میں چراغاں

17 دسمبر, 2019 19:15

شیعت نیوز: جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی جانب سے جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ نے تین تلوار کلفٹن کے مقام پر سانحہ آرمی پبلک اسکول اور شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شمع روش کیں، اس موقع پر شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی جبکہ شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے خصوصی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی، بھارتی وزیر اعظم کی بجائے ایک انتہا پسند ہندو کا کردار ادا کررہے ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس

تفصیلات کے مطابق کراچی کی معروف تین تلوار چورنگی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی جانب 16 دسمبر سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دلخراش واقعہ اور اس سانحہ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی یاد میں شمع روشن کی گئی، جبکہ شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر بھی اُٹھا رکھی تھیں۔اس موقع پر شہریوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی جبکہ معروف سماجی رہنما ظفر عباس سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنزکے رہنما ء مولانا حیدر عباس عابدی اور مولانا احمد اقبال رضوی بھی وہاں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شہدائے آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد منانا ہماری قومی و اخلاقی فریضہ ہے، محمد عباس جعفری

شہداء اور جبری گمشدہ شیعہ افراد کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام میں شریک شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ 5 سال گذر جانے کے باوجود سانحہ اے پی ایس کو پاکستانی عوام نہیں بھولے گی، مقررین کا کہنا تھا کہ قرآن کریم کا واضح اعلان ہے شہید زندہ ہے اور اپنے خدا کے یہاں سے رزق پا رہا ہے،اور اس کی تازہ مثال یہی ہے کہ اس سانحہ میں ملوث تمام دہشتگردوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے لیکن شہداء کی یاد آج بھی تازہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملت جعفریہ کی نسل کشی پر قابو پایا جاتا تو سانحہ اے پی ایس رونما نا ہوتا، علامہ مبشر حسن

مقررین نے اس موقع پر شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو بھی دہرایا انکا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی اے میں ملوث دہشتگرد احسان اللہ احسان کے گناہوں اور جرائم کو معاف کرنے والے ہمارے بے گناہ لاپتہ افراد کے جرائم کیوں نہیں بتاتے کے آخر انہیں کس جرم میں لاپتہ کیا گیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: شہدائے اے پی ایس کی 5ویں برسی ، معصوم بچوں کا قاتل آج بھی سرکاری مہمان

مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی گھر سے کسی کے عزیز کا غائب ہونا قتل ہونے سے زیادہ المناک اور دردناک ہوتا ہے، قتل کی اذیت تو کچھ وقت بعد پھر بھی کم ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی لاپتہ ہوجائے تو پورا خاندان مسلسل اذیت میں مبتلا رہتا ہے، جن شہداء کی یاد میں شع روشن کررہے ہیں انکے گھر والے سکون میں ہیں وہ بہترین مقام پر ہیں لیکن یہاں موجود لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا حال انتہائی خراب ہے کیونکہ انہیں یہ نہیں معلوم کے انکے پیارے زندہ ہیں بھی کہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ آرمی پبلک اسکول میں ملوث اہم تکفیری سہولت کار آج تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

انہوں نے کہا کہ ان لاپتہ افراد میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے ماں باپ اپنی اولاد کو یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، کتنی ہی بیویاں ہیں جو اپنے سھاگ کے انتظار میں بال سفید کررہی ہیں اور اولاد کو مسلسل دلاسے دے دے کر تھک چکی ہیں، ان لاپتہ افراد میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں جن کی جبری گمشدگی کے باعث ان کا گھر معاشی بد حالی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ اے پی ایس میں ہونے والی بربریت کی مثال نہیں ملتی ، علامہ باقرعباس

مقرین نے متعلقہ اداروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگرمذکورہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ایک شخص کےلئے آپ پورے خاندان کو سزا کیوں دے رہے ہیں؟ ان لاپتہ افراد کا وہ کون سا جرم ہے جس کو ادارے ظاہر نہیں کرنا چاہتے؟مقررین کا کہنا تھا کہ ان بے گناہ محب وطن شہریوں نے ایسا کونسا جرم انجام دے دیا جو دو سال، چار سال، گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہوسکااور آپ انہیں ان کے جرم کی سزا عدالتوں میں نہیں دلوا سکے۔ کیا یہ معزز عدالیہ کی توہین نہیں ہے؟ کیا ان پر توہین عدالت کو ئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہمارے تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے اور اگر ان میں کوئی قصور وار ہے تو اس عدالت میں پیش کیا جائے۔

12:21 شام اپریل 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔