سندھ ہائی کورٹ کی لاپتہ افراد کیس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹ طلب
سندھ ہائی کورٹ میں 40 سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

شیعت نیوز: سندھ ہائی کورٹ میں 40 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت سید الانبیاء ص کی ذات گرامی امت مسلمہ کے درمیان مرکز وحدت ہے، علامہ مقصودڈومکی
سندھ ہائی کورٹ میں 40 سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، دوران سماعت جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ اور وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد موسیٰ کو لاپتہ ہوئے 5 سال اور مہر بادشاہ کو 4 سال گزر گئے، پر دونوں کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی تحریک کی رکن جی بی اسمبلی ریحانہ عبادی کا تنجوس کادورہ ،عوامی مسائل کا جائزہ لیا
عدالت میں پولیس کی جانب سے جبری گمشدہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کارروائی جاری ہے، شہریوں کی بازیابی کے لئے دیگر صوبوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے مولوی خادم لنگڑے پر فرد جرم عائد کردی
کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ اور دیگر کو لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے لاپتہ شہریوں کو بازیاب کراکر ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
مماثل خبریں
لنک پر کلک کریں : ایک طرف لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی اور دوسری جانب ڈی آئی خان سےایک اورجوان اغوا
لنک پر کلک کریں : 2سال سےجبری گمشدہ سابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان سید رحمٰن شاہ بازیاب
لنک پر کلک کریں : اگر قانوں نافذ کرنے والے ادارے خود ماورائے آئین کسی کو لاپتہ کرتے رہیں تو اس ملک کا کیا بنے گا ، اقبال بہشتی