امریکہ چاہے جو ظلم وستم کرلے اسے اقوام متحدہ بھی ٹیڑھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا، علامہ سید عابد حسین الحسینی

26 ستمبر, 2019 17:26

شیعت نیوز: تحریک حسینی کے سربراہ سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے بین الاقوامی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ کسی بھی کارروائی کے قانونی جواز کا سرٹیفکیٹ صرف امریکہ کے پاس ہوتا ہے، وہ جس کام کو جائز قرار دیتا ہے، پوری دنیا اسے حق بجانب ہی قرار دیتی ہے۔

ان کاکہناتھاکہ امریکہ انسانی حقوق کو پائمال کرے تو کچھ بھی نہیں، امریکہ اپنے مفادات کی خاطر جس فرد، تنظیم یا ملک پر پابندیاں عائد کرے، اس پر جنگ مسلط کرے، اس پر حملے کرے، کوئی ملک انفرادی طور پر تو کیا، اسے اقوام متحدہ بھی ٹیڑھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ باراتیوں پر بم برسائے تو اسے ٹیکنیکل غلطی قرار دیا جاتا ہے اور پھر اسکا معاوضہ تو کیا، اسکی معافی بھی نہیں مانگی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ، سعودی تنصیبات پر فضائی حملہ روکنے میں اپنی ناکامی کا ملبہ ایران پر ڈال رہا ہے

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب پر حملے کو یہ خود نیز اس کے اتحادی بے شک جارحانہ اور اشتعال انگیز تصور کرتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ حملے کی ذمہ داری یمنیوں نے خود قبول کی ہے۔ چنانچہ اگر واقعاً اہلیان یمن نے یہ کارروائی کی ہے، تو بندہ کی نظر میں یہ سو فیصد حق بجانب ہے۔ مگر کیا کہا جاسکتا ہے۔ دنیا یمن پر ہونے والے مظالم اور تجاوز پر خاموش ہے۔ کیا دنیا کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ سعودی عرب کی طرح یمن، شام، عراق، فلسطین، بحرین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھی صدائے احتجاج بلند کرے۔

انہوں نے مزید کہاکہ کیا یمن میں ہونے والے جانی نقصانات نیز تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر سے یہ نقصان زیادہ ہے اور کیا انسان اور وہ بھی ایک نہیں، سو اور ہزار بھی نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں سے آرامکو میں ہونے والا نقصان کچھ زیادہ ہے؟ یمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ مگر اس پر دنیا کی، خود کو مہذب اور پیشرفتہ قرار دینے والی، قومیں مکمل طور پر خاموش ہیں۔ کیا کسی کو اپنی دفاع کا بھی کوئی حق نہیں۔ میری نظر میں اگر واقعاً یمنیوں نے یہ کارروائی کی بھی ہے، انہوں نے سب کچھ ٹھیک کیا ہے، کیونکہ یہ ان کے ہونے والے نقصانات کا عشر عشیر بھی نہیں اور یہ کہ قصاص اسلام میں جائز ہی نہیں بلکہ ہر فرد و قوم کا حق ہے۔

7:56 صبح مارچ 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔