بابائے قوم بانی پاکستان کے ہم مسلک پانچ کڑور شیعہ مسلمانوں کا اجتماعی میڈیا ٹرائل، سعودی ادھار کی شرائط میں سے ایک

شیعیت نیوز: سعودی واماراتی سودی قرضوں کے اعلانات کے بعد بابائے قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہم مسلک پانچ کروڑ پر مشتمل شیعہ کمیونٹی کا اجتماعی میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا ہے. سوشل میڈیا اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ بھی تکفیری ایجنڈا میں شریک ہوگئےہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ریاستی اداروں نے ملک کے اندر پھیلائی جانے والی نفرت جو محض جھوٹ پر مشتمل ہے کے خلاف سکوت اختیار کرلیا ہے. سیکورٹی اداروں اور حکومتی حلقوں کی مجرمانہ خاموشی کو انکی درپردہ منظوری سمجھا جائے؟؟ ملت جعفریہ میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے اور مختلف حلقوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اس میڈیا ٹرائل کے خلاف ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی قونصلیٹ نےپاکستان کے سوشل میڈیا اور میڈیا پرخاص توجہ مرکوز کررکھی ہے اور اس حوالے سے لاکھوں ڈالر کا بجٹ بنایا ہے جسکا ہدف میڈیا ذرائع کو استعمال کرکے ملت جعفریہ پاکستان اور برادر اسلامی ملک ایران کے خلاف ماحول سازی کرنا ہے۔
لہذا سازش کے تحت پاکستان کے بعض اخبارات میں سیکورٹی اداروں سے منسوب بے بنیاد خبریں نشر کی جارہی ہے. 5 کڑور شیعہ پاکستانیوں کے جذبات کو مجروح ہوئے ہیں.
یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ القاعدہ کے دہشت گرد، پاکستانی طالبان کے دہشت گردوں کو کن کے گھروں سے پکڑا گیا تھا. پوری پاکستانی قوم جانتی ہے کہ پاکستان کے ساٹھ ستر ہزار شہداء کن دیوبندی وہابی سعودی دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے.
پاکستان کی بری فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملہ دیوبندی تکفیری یزیدی وہابی دہشت گردوں نے کیا.
پشاور آرمی اسکول کے بچوں کو بھی اسی مسلک کے دہشت گردوں نے مارا. اور یہ صرف دو مثالیں ہیں ورنہ ضخیم کتابیں درکار ہیں.
تقی عثمانی پر حملے میں بھی وہی لوگ ملوث ہیں جنہوں نے پنجاب میں اپنی ہی سپاہ صحابہ کے صوبائی صدر شمس الرحمان معاویہ کا قتل کیااور جنہوں نے خود اپنے ہی جامعہ تعلیم القران پنڈی میں آگ لگائی اوراپنے ہم مسلک دیوبندیوں کو مارا. یہ وہ بے غیرت نسل ہے جس نے جامعہ بنوریہ کے بانی مولانا یوسف بنوری کے خاندان کی خواتین کی عزت کو روزنامہ امت میں اچھالا. یہی مولانا بنوری ال حسینی کا قاتل ٹولہ ہے جو روزنامہ امت کا ہم مسلک ہے.