فلسطینیوں کے بحری مارچ پر صیہونیوں کی جارحیت،50 زخمی
فلسطین کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتویں بحری مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں جو ہفتے کے روز کی گئی، کم از کم انچاس فلسطینی زخمی ہو گئے جن میں سے دس کو طبی مراکز منتقل کرنا پڑا جن میں نامہ نگار اور امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے غزہ کے شمال میں بحری سرحدوں کے قریب فلسطینیوں کے اجتماع پر فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔
فلسطینیوں کے ساتویں بحری مارچ کے دوران فلسطینی پرچم کی حامل تقریبا پچاس کشتیاں غزہ کے شمال میں بحری سرحدوں کی طرف بڑھیں جنھیں صیہونی فوجیوں نے جارحیت کا نشانہ بنایا۔ مارچ کرنے والوں میں بیشتر فلسطینی زخمی اور طلبا شامل رہے ہیں۔
دریں اثنا فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک رہنما فتحی حماد نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت مواقع ضائع کر رہی ہے جبکہ فلسطینیوں کا یہ مارچ صیہونی حکومت کی لاپرواہی کے خلاف استقامت کے ساتھ ساتھ غم و غصے کا اظہار ہے۔
غزہ کا محاصرہ توڑنے کے مقصد سے اب تک کیا جانے والا یہ ساتواں بحری مارچ ہے جسے صیہونی فوجیوں نے جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری طرف فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعل نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو کسی بھی قیمت پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سنہ سڑسٹھ کی سرحدوں میں ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کی صورت میں بھی فلسطین کے دیگر علاقوں سے خشم پوشی نہیں کی جائے گی اور غاصب صیہونی حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعل نے فلسطین کے متحدہ بنیادی فیصلوں کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو کہ قومی اتحاد کے متقاضی بھی ہیں، کہا ہے کہ تحریک حماس نے اتحاد و قومی آشتی کے لئے جو کام بھی ممکن ہوا ہے انجام دیا ہے تاہم فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے عہدیداروں نے اس موقع سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔
خالد مشعل نے کہا کہ حماس چاہتی ہے کہ سزائیں ختم کردی جائیں اور غزہ کا محاصرہ مذاکرات اور کسی سیاسی نقصان کے بغیر ختم ہو جائے۔