گرے لسٹ میں شمولیت پاکستان کیلئے کیا معنی رکھتی ہے؟
شیعیت نیوز: اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈین ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہاہےکہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کی توقع تھی یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے، ’’امریکا کی جانب سے رکن ممالک پر پاکستان کے خلاف فیصلہ کرنے کا دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘‘جرمن میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کو منظور پلان کے مطابق اقدامات کرے تواس کا نام گرے لسٹ سے نکالاجاسکتا ہے۔اسی طرح پاکستان کے ایک معروف ماہر اقتصادات ثاقب شیرانی نے کہاکہ’’تکنیکی اعتبار سے گرے لسٹ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو متاثر نہیں کرتی، پاکستان ماضی میں بھی 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں رہ چکا ہے اور اس دوران پاکستان کو کوئی بہت خاص مالی نقصان نہیں پہنچا۔‘‘ شیرانی کی رائے میں یہ تو ایک مثبت پہلو ہے لیکن دوسری جانب گرے لسٹ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان ایک غیر ملکی سرمایہ کار کی نظر میں ’ہائی رسک‘ ملک بن جاتا ہے اور ساتھ یہ خدشہ بھی رہے گا کہ کہیں امریکا کے مزید دباؤ سے پاکستان کو ’بلیک لسٹ‘ میں نہ شامل کر دیا جائے۔ اس وجہ سے کچھ حد تک پاکستان کے اقتصادی امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شیرانی کہتے ہیں کہ بظاہر اسلام آباد انتظامیہ نے ایف اے ٹی ایف کے سامنے ایک بہت ہی جامع منصوبہ پیش کیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو ختم کرنے کے لیے انتہائی پر عزم ہے۔