اسرائیلی عدالت سے 24 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں
اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران زیرحراست 24 فلسطینی شہریوں کو تین سے 6 ماہ کی انتظامی حراست کی سزاؤں کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے 9 اسیران کو پہلی بار جبکہ 15 اسیران کی انتظامی حراست میں تجدی کی گئی۔
فلسطینی اسیران کی انتظامی حراست کی دی گئی سزاؤں میں تین ماہ سے چھ ماہ کی قید شامل ہے۔ یہ سزائیں حتمی نہیں بلکہ ان میں باربار توسیع کی جاسکتی ہے۔
شیعت نیوز کے مطابق دو اسیران حسن شوکہ اور بلال ذیاب بلا جواز انتظامی قید کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے محض شبے میں فلسطینی شہریوں کو گرفتار کرکے انہیں قابل تجدید سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صیہونی حکام اس ظالمانہ سزا کو انتظامی قید قرار دیتے ہیں۔ اس کا کم سے کم عرصہ تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک ہوتا ہے مگر اس میں صیہونی حکام کی منشاء کے مطابق بار بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ اس طرح بعض فلسطینیوں کو کئی کئی سال تک اس ظالمانہ سزا کے تحت پابند سلاسل رکھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی 22 جیلوں میں کم سے کم 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 500 قیدی انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت پابند سلاسل ہیں۔