ایران کا میزائل پروگرام قرارداد 2231 کے خلاف نہیں، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کے روز تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری مذاکرات کے بارے میں تہران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ میزائل پروگرام کی توسیع، ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ ہے اور اس پالیسی پر عمل ہوتا رہے گا۔
بہرام قاسمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دفاعی مسائل میں کسی کو مداخلت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
انھوں نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ طور پر سپاہ کو دہشت گرد قرار دیئے جانے پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری کے انتباہ کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکی حکام ایسی کوئی بڑی اور اسٹریٹیجک غلطی کا ارتکاب نہیں کریں گے لیکن امریکی حکام کی جانب سے اگر ایسی کوئی غلطی کی گئی تو ایران کا جواب بہت سخت ہو گا اور امریکہ کو اپنے کئے کا نتیجہ بھی بھگتنا ہو گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بغداد میں عراق، ایران اور ترکی کے آئندہ سربراہی اجلاس اور کردستان کے حالیہ ریفرنڈم سے متعلق صلاح و مشورے کے بارے میں کہا کہ تینوں ملکوں کے درمیان گفت و شنید اور صلاح و مشورے کا عمل جاری ہے اور تینوں ملکوں کے سربراہوں کی آئندہ ملاقات کے وقت کے بارے میں بعد میں باخبر کیا جائے گا۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نےعراقی کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی کے ساتھ بعض عراقی حکام کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ان مذاکرات کے بارے میں حکومت عراق کے سنجیدہ ہونے کی صورت میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مذاکرات ایک قابل قبول عمل ہے-
ترجمان وزارت خارجہ بہرام قاسمی نے ایٹمی معاہدے کی شق ٹی کے بارے میں یوکیا امانو کے بیان کے سلسلے میں کہ جس میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پیش نظر ایٹمی ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں، کہا کہ نگرانی کے جاری عمل کے پیش نظر ایسا ہونے کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے آٹھ بار رپورٹ دی ہے اور ایران کی جانب سے کاربند ہونے کی تصدیق کی ہے اس لئے اس قسم کی باتوں کا کوئی مفہوم نہیں نکلتا۔
بہرام قاسمی نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپ کے رویے کے بارے میں بھی کہا کہ یورپی ممالک کی حکومتیں مختلف وجوہات کی بنا پر متحدہ طور پر امریکی پالیسی کے مقابلے میں کھڑی ہوئی ہیں اور طے پایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گی۔