دہشت گردوں اورمشکوک افرادکی سرکوبی کیلئےشہری تعاون کریں،ڈی جی رینجرز
شیعیت نیوز: ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے دہشت گردوں اورمشکوک افرادکی سرکوبی کے لئے شہریوں اورمیڈیاسے تعاون طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس کی بھی ایک استطاعت ہے اور وہ اس کے مطابق ہی نظر رکھ سکتے ہیں کیونکہ ہر گھر پر نظر رکھنا ممکن نہیں،ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہئے کہ وہ تعاون کریں اور خودبھی مشکوک سر گرمیوں پرنظر رکھیں اورشعوراجاگرکرنےکےکام میں میڈیا اہم کردار اداکرسکتا ہے۔ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ اگر شہری کوئی مشکوک سرگرمی یا کوئی دہشتگردی کا ثبوت دیکھیں تو وہ انٹیلی جنس اداروں کو اس بارے میں ضرور آگاہ کریں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارجیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن’’طالب علم دہشت گردی کے ملزم کیسے بن گئے؟‘‘ میں اس سوال کہ کیادہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے کس قسم کی سپورٹ کی ضرورت ہے،کا جواب دیتے ہوئے کیا ہے۔پروگرام میں ماہرتعلیم رسول بخش رئیس،سینئر تجزیہ کار زاہد حسین ،ماہر سیکیورٹی امور جمیل یوسف،ماہرنفسیات رضی سلطان صدیقی اورکراچی کے بیوروچیف فہیم صدیقی نے بھی شرکت کی۔پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ماہرتعلیم رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ابھی تک میڈیا،سول سوسائٹی اورسیکیورٹی ادارو ں کی توجہ مدرسوں اور مولویوں پر رہی اور ہم نے اپنی جامعات پر نظر نہیں ڈالی۔جامعہ کراچی میں مذہبی اور لسانی جماعتوں کا غلبہ رہاہے،اسی طرح پنجاب یونیورسٹی میں بھی ایک مذہبی جماعت پچاس سال سے اساتذہ اور وائس چانسلر کو مقرر کرواتی ہے۔ طالب علموں کے دہشتگرد بننے کی وجہ افغانستان میں ہونے والی جنگیں ہیں،افغانستان میں جاری جنگیں اوراس میں پاکستان کی حمایت کو اگر روکا جائےتوجوحلقوں میں جہادی جذبہ پیدا ہوگیاہے اس کوختم کیا جاسکتاہے۔سینئر تجزیہ کارزاہدحسین نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کی بڑی وجہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے،9/11سے پہلے جہادی ذہن کے لوگ ملک سے باہر لڑتے تھے لیکن اس واقعےکےبعد انہوں نے اندرونی دہشتگردی شروع کردی،اس کے علاوہ بیرونی اور اندرونی صورتحال بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ماہرسیکورٹی امور جمیل یوسف کاکہنا تھا کہ ہمیں اپنے نصاب تعلیم اورتعلیمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ جن علاقوں میں دہشت گردپنپ رہے ہیں وہاں سے متعلق آگہی اور وجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔پروگرام میں ماہرنفیسات رضی سلطان صدیقی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر دہشتگرد نہیں ہوتا،پیدائش کے بعدچارچیزیں اس کی نشوونمامیں اہم کرداراداکرتی ہیں،ایک اس کی فیملی، دوسرادوست احباب کاحلقہ،تیسراکمیونٹی اورآخری ہوتا ہے میڈیاجو ایک شخص کی کردارسازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،اسےاچھاانسان یاپھردہشتگردبناتاہے۔بیوروچیف کراچی فہیم صدیقی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی میں ملوث ہونے والے طلبہ کے والدین سے جب بات ہوتی ہے تو بہت سے والدین کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے بچے کس طرف جارہے ہیں،ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں آج کل کے نوجوان بہت زیادہ اس کا استعمال کرتے ہیں،دہشتگردتنظیم داعش اورانصار الشریعہ کےدہشتگردجب پکڑےگئےتو معلوم ہوا کہ انہوں نےرابطےکیلئےاپنےسوفٹ وئیربنائےہوئےتھے۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے مزید کہا کہ جب بچے کی عمر 15سال کی ہوجائے تو یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی نگرانی کریں،انکا بچہ کہاں بیٹھ رہا ہےاوراپنا وقت کس کے ساتھ گزار رہا ہے،ان کے بچے کا میل جول کن لوگوں کیساتھ ہے،یہ سب والدین کو دیکھنا ہے،اسی طرح تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طالب علموں کو دیکھیں،ان کی غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں،خواجہ اظہا رحملےکےبعدجو لڑکے پکڑ ئے گئے ان کے پاس سے دہشتگرد تنظیم القاعدہ کی کتابیں نکلی ہیں، عام لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے محلے میں بھی دائیں بائیں گھروں پر نظر رکھیں۔ماہر تعلیم رسول بخش رئیس کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اپنی جامعات پر نظر نہیں ڈالی کہ وہاں کیا ہورہا ہے،جامعات میں اساتذہ کہاں سے آرہے ہیں اور کس قسم کی انکی تعلیم ہے،جامعات میں وائس چانسلر کس قسم کے لگائے جار ہے ہیں،اس طرف توجہ نہ دی گئی،رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ پچھلے چالیس برسوں سے سرکاری جامعات میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ہے،اسی طرح پنجاب یونیورسٹی میں بھی ایک مذہبی جماعت پچاس سال سے اساتذہ اور وائس چانسلر کو مقرر کرواتی ہے اوراسی جامعہ کے ڈنڈا بردار طلبہ آج پروفیسر اور وائس چانسلربنےہوئےہیں،ملک کی جامعات میں طلبہ قتل ہوجاتے ہیں لیکن آج تک ایک قاتل کو سزا نہیں ہوئی،ان کا مزید کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں دیکھ لیا جائے کہ جب جامعات میں داخلے ہوتے ہیں تو وہاں انتہا پسنداور لسانی تنظیموں کے ڈیسک لگائے جاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے ایم این اے، ایم پی اے کو پیسے بنانے اور کرپشن سے فرصت ملے تو وہ بات کرے کہ جہاد کرنا یا نہ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،کسی گروہ یا فرد کی نہیں،رسول بخش رئیس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں پرکڑی نظررکھیں اور اسکولوں میں کس قسم کا نصاب پڑھایا جاتا ہے اس پر بھی نظر کرنےکی ضرورت ہے،جامعات میں بحث و تمحیص کے مکالمات کرانے چاہئیں اور یہ کام جامعات کے وائس چانسلر کا ہے،اس کے علاوہ اسپورٹس کے میدان اور ادبی سرگرمیوں کابھی خیال کرناہوگاتاکہ طالب علم مشغول رہیں۔