پاکستان

وزیر داخلہ کے بعد آئی جی پنجاب دہشتگردوں کے دفاع میں سامنے آگئے

شیعیت نیوز: جب اس قوم کے محافظ ہی دہشتگردوں کی تعریفیں کرنے لگیں تو قوم کو فاتحہ پڑھ لینی چاہئے ، پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے ذمہ دار پولیس افسر کا غیر ذمہ دارانہ بیان سامنے آیا ہے جس نے پاکستان کی پرامن اور دہشتگرد ی سے تنگ قوم کو مزید تشویش کا شکار کر دیا ہے، عوام کنفوژن کا شکا ر ہے کہ کیا واقعی یہ ملک و قوم کے محافظ ہیں یا دہشتگردوں کے ترجمان؟۔

اطلاعات کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ۲ سال سے سپاہ صحابہ کی تحریر و تقریر میں کافر کے نعروں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،انہوںنے کہاکہ لشکر جھنگوی کا پنجاب میں کوئی وجود نہیں۔

پنجاب جیسے صوبہ کے آئی جی پولیس کی معلومات کی یہ حالت دیکھ کر افسو س کے سواکیا کیا جاسکتا ہے، جب پولیس کا انفارمیشن کا یہ حال ہو تو دہشتگرد ملک بھی میں دندناتے ہی پھریں گے۔

آئی جی پنجاب کا یہ بیان کچھ دنوں قبل کالعد م سپاہ صحابہ کے سرغنہ احمد لدھیانوی کی جانب سے جھوٹ پر مبنی جاری ہونے والے خط سے مماثلت رکھتا ہے، آئی جی اور احمد لدھیانوی کے بیان کا ہم پلہ ہونا اس بات کی جانب اشارہ ہے نواز لیگ کالعدم جماعت کو سیاسی دھارے میں لانے کے لئے تیاری مکمل کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں شیعہ نسل کشی کے لئے احمد لدھیانو ی نے لیبیا حکومت سے لاکھوں ڈالرلئے، وکی لیکس کا انکشاف

لہذا مشتاق مہر صاحب کو ان دو سالوں میں کتنی تحریر و تقریر اس کالعدم جماعت کی دیکھائی جائیں جس میں تکفیر کررہے ہیں ؟ فقط یاد دہانی کے لئے گذشتہ سال کے درمیان میں اسلام آباد کے قلب میں ہونے والے ایک جلسے کی ہی یاد دہانی کرو ادیتے ہیں جس میں باقاعد ہ شیعہ تکفیری کے نعرے لگائے گے، اس کے علاوہ مزید جاننے کے لئے دیکھیں یہ ویڈیو

 

رہا سوال لشکر جھنگوی کا تو جناب لشکر جھنگوی کو کئی سالوں تک کس نے پنجاب میں پال رکھا تھا؟ کون اس کالعدم جماعت کے سرغنہ کو ماہانہ وضیفہ ادا کررہا تھا؟

اس طرح کے بیان سے واضح ہے کہ مسلم لیگ ن کی وفا ق و پنجاب حکومت ہی ملک میں دہشتگردوں کی حمایتی اور اصل سہولت کار ہے، آئی جی پنجاب حکومت پنجاب کی مرضی سے تعینات ہوتا ہے اور وہ ہی انکے مفادات کا نگہبان و محافظ ہوتا ہے لہذا مسلم لیگ کی حکومت وفاق میں چوہدری نثاراور پنجا ب میں پوری حکومتی مشینری کے ذریعہ ان دہشتگردوں کی سہولت کاری کررہی ہے۔

 

C8bwBUaVoAAO1D8.jpg

 

 

متعلقہ مضامین

Back to top button