پاکستان

کالج/یونیورسٹی کے خود سر بکے ہوئے شیعہ طلبہ نے یوم الحسین ؑ کا معاملہ خراب کیا، امام جمعہ گلگت

شیعیت نیوز: قم بلتستانیہ امام بارگاہ میں گلگت بلتستان کے علماء وطلاب کے اجتماع سے امام جمعہ مرکزی جامع مسجد گلگت حجۃ الاسلام والمسلمین سید راحت حسین الحسینی کے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علما صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے، جبکہ طالب علم ھزاروں لوگوں سے انتخاب ہوتا ہے، انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں علما اور طلاب کی کمی کا شدت سے احساس ہوتا ہے، مدارس علمیہ میں انگشت شمار طلاب موجود ہیں۔، نجفی اور مبارز علما کی تعداد کم ھو گئی ہے، میدان میں موجود علما کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہاہے،ہم خالص عقیدے کے حامل ہیں، ہمارے اندر کی کمی یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے بطور احسن عھدہ برآ نہیں ہورہے ہیں۔

امام جمعہ جامع مسجد گلگت نے کہاکہ ہماری دیانت داری زبان زد عام ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے کے اندر تبلیغات دینی کی کمی ہے، ہمارے طلاب میں مہارت کی کمی ہے، ایک عالم دین کے لئےمبانی احکام ، تفسیر کا ایک دورہ،عرفان کا ایک دورہ کئے بغیر معاشرے میں قدم رکھیں تو کما حقہ ذمہ داری ادا نہیں کرسکتا لہذاعلمی میدان میں بھر پور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، انہوںکہا کہ عمل کے بغیر جو علم ہے اس کی مثال ایسا ہے جیسے طور کے ہاتھ میں روشنی ہو وہ تمام مال و اموال کو غارت کرے گا۔

علامہ راحت الحسینی نے کہا کہ اس حدیث کو اپنی زندگی کا سرمایہ حیات قرار دو، کونو دعاتا الناس بغیر السنتکم۔

سیاسی مشکلات اور الیکشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ حلقے گلگت بلتستان خالص شیعہ ارکان آسکتے ہیں، اسماعیل برادری کے پاس 3 حلقے۔ نوربخشی برادری کے پاس 3 حلقے ، ہم نے سب شیعہ پارٹیوں کے ساتھ دیا اس پر میرے ساتھ مشکلات بھی پیش آئی، تحریک جعفریہ میں گروپ بندی کی وجہ سے گلگت بلتستان پر بھی اثر ہوا۔اس لئے شہید ضیاء الدین نے تحریک کا ساتھ دیا، ہر پارٹی کی خواہش پر فیصلہ کرنا میرے لئے مشکل ہے۔ مجھ پر بھروسہ ہے تو مجھے کام کرنے دین۔

الیکشن کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ھو ئی ہے وہ افسوسناک ہے، سب کی نگاہ جامعہ مسجد کے امام پر ہے۔ جو بھی ہے، ہمارے ووٹر تقسیم تھے۔ 5 سیٹیں ہمارے پاس آئیں۔

انہوںنے کہاکہ اس وقت 22 افراد برسر اقتدار،اپوزیشن بھی انکے اپنے پاس ہئ جو وزیر لئے ہیں 4 سنی دو شیعہ جبکہ70 سے 75 فیصد شیعہ ہیں۔لیکن افسوس ہے صورتحال پرمیں نے آل پارٹیز کانفرنس رکھی تاکہ جیت جائیں لیکن افسوس مجھے اتنا دکھ دیا کہ بیان نہیں کرسکتا، انتخابی عمل میں کس کی غلطی ہوئی بیان نہیں کرسکتا، غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم ناکام رہے، ابھی ہر خشک و تر اُن کے ہاتھ میں ہیں 11 سیکریٹری میں سے صرف 2 شیعہ ہیں،س وقت ہمارے وہان ھادی چینل پر پابندی ہے۔ ھدایت چینل پر پابندی۔پریس تی وی پر بھی پابندی۔ اگر پابندی نہین ہے تو ناچ گانے والے چینل ہین۔ لوکل چینل پر بھی کوئی مذھبی پروگرام دکھائین تو بھی پابندی۔

میں نے تین پارٹیوں تحریک،ایم ڈبلیو ایم اور پیپلز پارتی کو متحد کرنے کی کوشش کی،لیکن ان لوگوں کو سیاست کرنا نہیں آتی،آج کے بعد آپ خدا کے بندے ہوجائیں نہ پارٹی کے بندے۔*

یوم الحسین ؑکے حوالے سے انہونںنے کہا کہ شیعوں کے دشمن اس معاملے مین آگے آگے ہیں۔ یوم الحسینؑ کے حوالے سے میں ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ہمارے اندر کچھ بکے ھوئے افراد ہیں یونیورسٹی اور کالج کے کچھ جواں جو خودسرہیں انہوں نے کام خراب کرا دیا،پھر سب کے خلاف پرچے کٹے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button