پارچنار کے پرامن مومنین کے خلاف سعودی / بھارتی عزائم بے نقاب، خصوصی رپورٹ
شیعیت نیوز: پاکستان کی قبائلی ایجنسیوں میں واحد پرامن محب وطن کرم ایجنسی کے علاقہ پارچنار کو گذشتہ کئی سالوں سے سعودی عرب و بھارت کے لے پالک دہشتگردوں کے ذریعہ بدترین دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیاہے، آخر پارچنار کے عوام کا جرم کیا ہے؟
اس کی بنیادی وجہ اس خطہ کی عوام کا پاکستان سے اپنے وجود کے ساتھ منسلک رہنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں واحد پارچنار وہ علاقہ ہے جہاں پر آج تک پاکستان کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوا؟ اس کے برعکس دیکر خیبر ایجنسی ، وزیر ستان وغیر ہ میں سعودی و بھارتی ایجنٹوں نے ناصرف پاکستان کے پرچم کو نذر آتش کیا بلکہ پاک فوج کے جوانوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹ بال کھیلی گئی؟
بتایا جائے کہ کیا کبھی پارچنار کی عوام نے پاک فوج کے قافلوں پر حملہ کیا؟
کیا کبھی پارچنار کی عوام نے پاک فوج کے جوانوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹ بال کھیلی ؟
نہیں ایسا نہیں ہوا تو پھر کیوں وہاں کی عوام کو ریاستی اداروں کی جانب سے غیر مسلحہ کرکے انکی منعظم نسل کشی کی اجازت دی جارہی ہے؟جبکہ پارچنار افغانستان کے مقابلہ میں پاکستان کا فرنٹ دیفنس کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الرٹ :ریاستی اداروں کی پارہ چنار کے شیعوں کے خلاف بڑی سازش بے نقاب، خواص متوجہ ہوں!
اس کی وجہ واحد سعودی عرب، بھارت و افغانستان کا اتحاد ہے جو اس خطہ کے خلاف ہمیشہ سے سرگرم رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ بھارتی و سعودی ایجنٹوں طالبان نے ۲۰۰۷ میں باقاعدہ اس خطہ پر لشکر کشی کی لیکن یہاں کی محب وطن عوام نے اپنی سرزمین کا دفاع کیااور ان دہشتگردوں کا مقابلہ کرکے انہیں مار بھگایا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان حقائق کو جاننے کے باوجود پاکستان کے ریاستی اداروں کا اس علاقہ کو غیر مسلحہ کرنے کا پلان کیون اور کس کے لئے بنایا جارہا ہے؟ جبکہ اس خطہ پر دہشتگردوں کے حملہ سے لے کر افغانستان کی جانب سے کسی بھی وقت جارحیت کا خطرہ ہمیشہ رہتاہے۔ اسے محض پارچنار کی عوام کی سعودی دہشتگردوں کے ہاتھوں معنظم نسل کشی کی کھلی اجازت ہی سمجھی جاسکتی ہے۔
سعودی عرب اور پارچنار
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعود ی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان میں موجود سعودی سفیر مسلسل پاکستانی حکمرانوں سے پارچنارہ کی عوام کے خلاف ملاقات کرتے رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ سعودی سفیر نے باقاعدہ مخصوص فنڈ پارچنار کی پرامن عوام کو بدنام کرنے کی خاطر اور انکے خلاف نافہم اور معصوم مسلمانوں کے جذبا ت کو ابھارنے کی خاطر میڈیا پروپگنڈا کرنے کے لئے مختص کیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا چونکہ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ شام میں نواسی رسول (ص) حضرت زینب بنت علی علیہ سلام کی حرم کے دفاع میں پارچنار کے مومنین نے اہم کردار ادا کرکے سعودی عزائم کو خا ک میں ملایا ہے اسی لئے وہ اس شکست کا بدلہ وہ پارچنا ر کی مظلوم اور محب وطن پاکستانی عوام سے لینا چاہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان سے لے کر سعودی سفیر نے پاکستان میں اس خطہ کے خلاف ہر سطح پر سازش کو جنم دیاہے۔
ذرائع نے کہا کہ آپ دیکھ نہیں رہے کہ سعودی سفیر کی ملاقات کے بعد طاہر اشرفی اور دیگر ان جیسے مولوی نے پارچنار کے خلاف میڈیا پر شور مچانا شروع کیاتھا یہاں تک کہ انہوں نے پاکستان میں ایک حرب اللہ کے قیام کی خبر بھی دیدی تھی جو آج تک ثابت نہیں ہوئی ،یہ زبان طاہر اشرفی اور امت اخبار کی نہیں بلکہ سعودی عرب کے سفارت خانہ سے جاری ہونے والے احکامات کی تھی، اسی طرح امت اخبار بھی اپنے آقاوں (افغان انٹیلیجنس) کی خوشنودی کی خاطر روزنانہ پارچنار کے لوگوں کے خلاف بے بنیاد خبریں شائع کرتا ہے، لہذا کرم ایجنسی بھارتی سعودی اور افغانی نکسس (اتحاد ) کے زیر عتاب ہے۔
دوسر ی جانب بھارت اس خطہ کا دشمن اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی عوام کبھی بھارتی ایجنٹ نہیں بنی اور ملک کے خلاف بغاوت کا اعلان نہیں کیا ،جس طرح دیگر ایجنسیوں میں بھارتی ایجنٹوں نے بغاوت کرکے ملک کو اندرونی جنگ میں جھونکا۔
لیکن قابل تشویش بات یہ ہے کہ ہماری ریاست اور حکومت دونوں بھی پروپگنڈا کا شکار ہوکر دشمنوں کی لائن پر عمل پیرا ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے آج تک ہمارے ادار ے یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ محب وطن کو ن ہے اور دشمن وطن کون؟








