پارہ چنار دھماکے پر سربراہ ایم ڈبلیو ایم کا ردعمل و اظہار تعزیت

21 جنوری, 2017 00:00

شیعیت ینوز:ایک بار پهر خارجی تکفیریوں کا معصوم بےگناہ وطن دوست اور آل رسول (ص) سے عشق کرنے والوں پر بزدلانہ حملے میں 20 سے زیادہ شهید اور 40 سے زیادہ افراد زخمی هو گئے ہیں ،شهدا کے وارثوں کی خدمت میں تعزیت اور تسلیت پیش کرتا هوں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا هے.اس طرح کے واقعات دهشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعووں کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی هیں. حکومت اور سیکورٹی اداروں کی طرف سے کرم ایجنسی سے ملحقہ پاک افغان سرحدی علاقوں میان داعش کی روز افزوں بڑھتی هوئی سرگرمیوں کے باوجود وہاں کے لوگوں کو سیکورٹی کے امور سے الگ تھلگ رکهنا ،ان پر اعتماد نہ کرنا ،بلکہ انہیں مختلف حیلوں، اور حربوں کے ذریعے ہراساں کرنا اور الجهائے رکهنا ،اس طرح کے مجرمانہ اقدامات کی راہ ہموارکرتا هے .پاراچنار اور کرم ایجنسی کے کے محب وطن پاکستانی همیشہ سے اس امتیازی سلوک کا شکار رهے هیں دوسری طرف پورے پاکستان میں تکفیری اور انکے سرپرست دندناتے پهر رهے هیں اور باقاعدہ انہیں حکومتی سطح پر سہولتیں فراهم کی جا رهی هیں .ان سب حقائق کو سامنے رکھتے هوئے هم یہ کہنے پر مجور هیں کہ عملاً همارے حکومتی اداروں میں ان تکفیری دہشت گردوں کے ساتهی موجود هیں جو ان کی مسلسل مدد کر رهے هیں .اور اپنے وطن اور اہل وطن سے خیانت کے مرتکب هیں

دوسری طرف شام کے مسائل پر واویلا کرنے والے آج اپنے ملک میں بے گناہوں کے قتل عام پر کیوں خاموش هیں، وہ کالم نویس اور ٹی وی اینکر جو میڈیا میں شام کے حوالے سے کل ماتم کناں تهے آج وہ کیوں خاموش هیں ؟ یہ سب تکفیری دهشت گردوں کے سرپرستوں سہولت کاروں اور حامیوں پر مشتمل وہ ٹولہ هے جو هردم انکی حمایت میں آگے آگے نظر آتا هے.دهشت گردی کا خاتمہ منافقانہ پالیسیوں اور اقدامات سے ممکن نہیں

واضح اعلان کرنا هو گا کہ پاکستان میں دهشت گردی کرنے والے سلفی دیوبندی تکفیری هیں ،انکے مدارس اور مراکز افرادی قوت مهیا کرتے هیں ،وهیں پر لوگوں کی برین واشنگ کرکے انہیں دہشتگرد بنایا جاتا هے .اگر دہشت گرد جنم دینے والے یہ مراکز اسی طرح فعال رهے اور دهشت گردوں کے بارے جان بوجھ کر ابہام اور دوغلاپن باقی رکھا گیا تو پاکستان میں دهشتگردی کا خاتمہ ،اور امن و امان کی بحالی کا خواب کبهی شرمندہ تعبیر نہ هو سکے گا. ان تمام واقعات کی ذمہ داری جکومت پر بهی عائد ہوتی هے اور وہ بهی ان گھناؤنے واقعات کی جواب دہ هے

قائد وحدت ناصر ملت
حجتہ الاسلام والمسلمین
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین
پاکستان

12:45 شام مئی 3, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔