پاکستان

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، نماز آیت واجب ہوگئی

شیعیت نیوز: کراچی کے علاقےمختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث علاقہ مکین خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے اور بعض علاقوں میں گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔

زلزہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3اعشاریہ 6ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز کراچی میں 12کلومیٹر زیر زمین تھا۔

زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ دس بجکر44منٹ پر آیا اور اس کادورانیہ 10سیکنڈ تھا۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر، گلشن اقبال، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد اور سہراب گوٹھ میں زلزلے کے جھٹکوں کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر آگئے، این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی میں طلبہ کلاسز سے باہر آگئے اور تدریسی عمل معطل ہوگیا

دوسری جانب دین محمدی (ص) کے تحت نماز آیت مسلمانوں پر واجب ہوگئی ہے جسکے پڑھنے کا طریقہ کچھ یوں ہے!

واجب نمازوں میں سے ایک نماز آیات ہے جو کہ حائض اور نفساء کے علاوہ ہر مکلف پر سورج گرھن،چاند گرھن میں( چاہے جزئی ہوں) واجب ہے۔اور اسہی طرح احتیاط واجب کی بنا پر زلزلہ کے وقت بھی واجب ہے، جبکہ ہر مخوف سماوی (آیت سماوی ،کہ جس سے اکثر افراد خوفزدہ ہوجائیں جیسا کہ سیاہ یا سرخ یا زرد آندھی اور شدید اندھیرہ چھا جانا یا بجلی کی گرج یا آسمانی آگ کا ظاہر ہونا) بلکہ ہر مخوف ارضی میں بھی جیسا کہ زمین کا دہنس جانا یا پہاڑوں کا گر جانا یا اس کہ علاوہ جو بھی خوف زدہ کرنے والے علامات ہوں ۔تو احوط ِاولیٰ (مستحب)یہ ہے کہ ان حالات میں بھی پڑھی جائے۔

طریقہ: نماز آیات دو رکعت ہے ،اسکا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھے اسکے بعد کسی بھی سورہ میں سے کچھ حصہ (ابتداء سےبسم اللہ کے ساتھ) اس شرط کہ ساتھ کہ یہ پہلا حصہ( بنا بر احتیاط ) اگر ایک جملہ کاملہ نہ بنتا ہو تو ایک آیت سے کم نہ ہو ،جبکہ خود بسم اللہ ۔۔۔ بھی ایک آیت شمار ہوتی ہے۔(مثال کہ طور پر فاتحہ اور اسکے بعدپھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، ا نا انزلناہ فی لیلۃ القدر) تک پڑھے پھر رکوع کرے پھر رکوع سے اٹٓھ جائے اور پھر جہاں سے سورہ القدر قطع کی تھی وہاں سے آگے کچھ حصہ پڑھے(بغیر فاتحہ کا اعادہ کیئے ہوئے اور دوبارہ بسم اللہ بھی نہ پڑھے) مثلا (و ما ادراک ما لیلۃ القدر) اور پھر رکوع میں جائے اس ہی طریقے سے پانچ رکوع کرے اور ہر قیام میں سورہ کا کچھ حصہ پڑھے۔البتہ یہ ضروری ہے کہ پانچویں رکوع سے پہلے سورہ کا باقی تمام حصہ مکمل کرلے مثلا(سلام ھی حتی مطلع الفجر) پڑھ لے پھر پانچواں رکوع کرے اور پھر رکوع سے بلند ہو نے کہ بعد دو سجدے بجا لائے اور پھر دوسری رکعت کے لیئے قیام کرے ،اور دوسری رکعت کو بھی پہلی کی طرح ہی انجام دے البتہ کسی دوسری سورہ کے ساتھ(مثلا بسم اللہ اور سورہ الفاتحہ کے بعد سورہ قل یا ایھاالکافرون کے حصے بنائے جیسا کہ پہلی رکعت میں کیا تھا) اور پھر پانچویں قیام میں جب سورہ مکمل کر چکے تو قنوت پڑھے اور پھر پانچواں رکوع انجام دے،جسکے بعد دو سجدے ،تشھد و سلام کے ساتھ نماز کو تمام کرے ۔

ماخذ: توضیع آیت اللہ سیستانی

متعلقہ مضامین

Back to top button