الرٹ :ریاستی اداروں کی پارہ چنار کے شیعوں کے خلاف بڑی سازش بے نقاب، خواص متوجہ ہوں!
شیعیت نیوز: پاکستان کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں کرم ایجنسی بھی ایک ایسا اہم اسٹرٹیجک علاقہ ہے جو افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا صدر مقام پاراچنار شیعہ نشین علاقہ ہے اور اس پر کالعدم قرار دی گئی دہشت گرد دیوبندی وہابی تنظیموں کی یلغاراوران تکفیری دیوبندیوں کو ریاست پاکستان کے سعودی نواز متعصب حکام بالا کی سرپرستی تاریخ کا ناقابل تردید حصہ ہے۔
ریاستی سرپرستی میں تکفیری دیوبندی وہابی دہشت گردوں کے آگے پرامن محب وطن پااراچناری شیعہ مسلمانوں کو تر نوالہ بنانے کے لیے ایک نیا فرمان جاری ہوا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو ان کے دفاعی اسلحے سے محروم کردیا جائے اور جو خود سے جمع نہ کروائے اس پر چھاپہ مارا جائے، گرفتار کیا جائے اور سخت سزا دے کر اسے عبرت کی مثال بنادیا جائے۔
یہ ہے پاکستان سے محبت کی سزا جبکہ کالعدم طالبان ، کالعدم سپاہ صحابہ اور ان کی ذیلی شاخوں یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں کسی قسم کا کوئی فرمان جاری نہیں ہوا نہ ہی ان سے وہ ہتھیار لئے جائیں گے جس سے پاکستان کے غیرت مند فرزندوں کو مادر وطن پاکستان کا دفاع کرنے کے جرم میں مارا گیا، ان تکفیری دہشت گردوں نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں کو مار ڈالا، ہزاروں بستیاں اجاڑ ڈالیں لیکن ان کے لئے پالیسی یہ ہے کہ انہیں نہ صرف معاف کردیا جائے بلکہ انہیں سیکیورٹی فورسز میں بھرتی بھی کرلیا جائے۔ اس خطرناک منصوبے کا انکشاف ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے چینل ٹوینٹی فور کے ایک پروگرام میں بات چیت کے دوران کیا تھا۔
پاکستان کے پرامن اور محب وطن شہریوں نے اس پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا قبائلی علاقوں میں شیعہ نسل کشی کے زمہ دار تکفیری دیوبندیوں کو غیر مسلح کردیا گیا ہے ؟ کیا کالعدم دیوبندی سپاہ صحابہ جو خود کو اہلسنت والجماعت کہتی ہے، اور اس کی بچہ تنظیم لشکر جھنگوی، کیا ان تینوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے ؟
کیا جماعت الاحرار، حقانی نیٹ ورک جس سب سے زیادہ مدارس کوہاٹ۔ہنگو کے اردگرد ہیں اور منگل قبائل کے اندر پارہ چنار میں حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کو منتقل کرنے کی خبریں آئی تھیں۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا تب بھی حقانی نیٹ ورک کو منتقل کردیا گیا تھا۔ حقانی نیٹ ورک بھی شیعہ نسل کشی میں ملوث رہا ہے اور پارہ چنار میں شیعہ قبائل کے قتل عام میں اس نیٹ ورک کے لوگوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے) تو کیا اس نیٹ ورک اور جماعت الاحرار سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ہوگیا ہے؟
کیا پاکستان کے پرامن علاقہ سے ہتھیاروں کو اسلئے جمع کیا جارہا ہے تاکہ شام میں دہشتگردوں کی شکست کا بدلہ لیا جاسکے کیونکہ آل سعود اور دیگر دہشتگردوں کا الزام ہے کہ شام میں نواسی رسول (ص) کے حرم کے دفاع میں پارچنار سے نوجوان شامل ہیں۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں کیونکہ کیا جارہا ہے جب روزانہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ عالمی استعماری طاقیتیں پاکستان اورافغانستان میں داعشی و القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دینے کی پلانگ کرچکے ہیں، جبکہ افغانستان سے متصل علاقہ کرم ایجنسی کے افراد ان دہشتگردوں کا شکار ہوسکتے ہیں ، انہیں غیر مسلح کرنے کی بات باعث تشویش ہے۔
یہ اور اس سے ملتے چلتے سوالات اس لئے اٹھائے جارہے ہیں کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ایک طرف تو پارہ چنار کرم ایجنسی میں شیعہ قبائل کو غیر مسلح کرنے کی مہم شروع کردی ہے جبکہ دوسری جانب سیکورٹی ایجنسیوں نے کوہاٹ کے شیعہ اکثریتی علاقے کاسائی یا کسئی میں سیلف ڈیفنس کے لئے موجود اسلحے کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔جبکہ دہشتگرد ابھی بھی مسلح ہیں۔