علامہ امین شہیدی اسلامی فرقوں پر مشتمل امت واحدہ فورم کے صدر منتخب
شیعیت نیوز: پاکستان میں دینی اقدار کی سر بلندی،مذہبی اور مسلکی ہم آہنگی،افہام و تفہیم،دینی مشترکات کے فروغ،معاشرے میں مذہبی رواداری کےلیئےجدوجہدکرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور اس مقدس مقصد کے حصول کی خاطر مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کیلئے گزشتہ روزلاہور کے ایمبیسیڈر ہوٹل میں ’’امت واحدہ‘‘ پاکستان کا پہلا رسمی تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس میں ۳۸ علماء ومشائخ اورتنظیمی تجربہ کار ساتھیوں نے شرکت کی، اس اجلاس میں’’امت واحدہ ‘‘کی تشکیل کےمقاصد اور اس کی حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی اور اھداف کے طور پر درج ذیل نکات پیش کیے گئے۔
(۱)۔ قرآن اور رسول اللہؐ کی سنت سے مضبوط تمسک کے لئے عملی کوشش(۲)۔ جزئیات کی بجائے اسلام کے بنیادی اھداف و مقاصد پر زور ۳۔ مسالک کے درمیان مشترک پہلوئوں پر زور اور ان کی تقویت۔۴۔ مشترک دشمن کے مقابلہ اور خطرات کے سد باب کرنے پر یکسوئی۵۔ تفرقہ انگیز مسائل سے اجتناب اور دوری اور جزئی مسائل سے چشم پوشی۔۶۔ امت مسلمہ کے مصالح کی عالمی سطح پر تشخیص اور اس پر تمام فرقوں کا اتحاد۔۷۔ تفرقہ بازی کے لئے دشمن کی سازشوں اور ان کے مکرو حیلہ سے آشنائی اور سدباب۸۔ اسلامی فرقوں کے علماء کے درمیان باہمی روابط کی تقویت اور غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لئے دوستانہ ماحول میں گفتگو۔۹۔ علماء اور خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی تحمل و برداشت ،کشادہ دلی اور مخالف نظریات کو برداشت کرنے کی تلقین۱۰۔ کسی بھی فرقےکے مقدسات کی توہین سے مکمل اجتناب وپرہیز۔۱۱۔ نا معقول تعصب، الزام تراشیوں افتراء اور تہمت سے مکمل پرہیز۔۱۲۔ شدت پسند علماء اہل قلم، خطیب افراد پر، جو ہمیشہ نفاق و تفرقہ کا سبب ہوتے ہیں، کنٹرول-۱۳۔ شیعہ سنی مشترکہ اجتماعات کے انعقاد کی عملی کوشش۱۴۔ مشترکہ علمی اور فکری کاوشوں اور مواد کی اشا عت ایجنڈا اور اہداف سے تمام شرکاء نےمکمل اتفاق کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں مزید اچھی تجاویز بھی دیں۔
اجلاس میں طے پایا کہ ایک ماہ میں ’’امت واحدہ‘‘ کا مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آبادمیں قائم کیا جائے گا اور مرکزی سپریم کونسل کا اعلان کیاجائے گا ساتھ ہی ورکنگ باڈی کے لئے بھی افراد کا تعین کیا جائے گا۔درایں اثناءاجلاس کے شرکاء نے علامہ محمد امین شہیدی کواتفاق رائے سے ’’امت واحدہ پاکستان‘‘کا سربراہ منتخب کرلیا۔’’امت واحدہ‘‘ پاکستان میں موجود دینی مکاتب اور مسالک کے مابین افہام و تفہیم اور مسالک کے درمیان موجود مشترکات کے فروغ کا ایک موثر’’ فورم‘‘ہوگا جس کا دائرہ کار صوبوں میں بھی پھیلایا جائے گا۔
اجلاس میں سید ضیاء اللہ شاہ بخاری متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان، پیر سید محمد معصوم حسین نقوی صدر جمیعت علماء پاکستان نیازی ، علامہ محمد امین شہیدی ،حافظ اکبر علی نقش بندی جمیعت علماء پاکستان نظریاتی،پیر سید کونین حید ربخاری جمیعت علماء پاکستان نظریاتی، محمد ریحان طاہر قادری جمیعت علمائےپاکستان، محمد عثمان علی جلالی جمعیت علمائےپاکستان نورانی،محمد حذیفہ بخاری متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان ،پیرسید محمد صفدر شاہ گیلانی آستانِ حیدر کندیاں ضلع میانوالی،مفتی محمدآصف نعمانی جمیعت علماءپاکستان نظریاتی، پیر اختر رسول قادری آستان حق باہو، ،سید اسامہ بخاری،متحدہ جمیعت اہل حدیث پاکستان،محمد عاکف طاہرایڈووکیٹ،محمد سلمان علی صوفی کونسل،محمد احمدوینس ایڈووکیٹ،شہزادہ علی ذوالقرنین ،،محمد جعفر ماجد اعوان انجمن طلباء اسلام، سید محمدعلی جعفری ،علامہ محمد حیدر علوی،سید خزیمہ ضیاء بخاری متحدہ جمیعت اہلحدیث پاکستان، انجم رضا المصطفےٰ فاؤنڈیشن، مسعود چوہدری ، سید یوسف صدیقی جامعہ اسلامیہ سیراج العلوم، صاحبزادہ نعیم عارف نوری جامیہ غوثیہ سبزہ زار، کے علاوہ متعدد علماء مشائخ اور دانشوروں نے شرکت کی ۔