پاکستان

ہزاروں شیعہ مسلمانوں کی قاتل نائیجرین آرمی کے سربراہ کی پاکستان آمد، عوام سراپا احتجاج

شیعیت نیوز: پاکستان میں نائیجرین آرمی کے ایک جنرل کی پاکستان آمد اور اسکی پاکستانی دفاعیصنعت کے اہم ذمہ داروں سے ملاقات پر پاکستان کی عوام سراپا احتجاج ہیں، اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز نائیجریا کے جرنل بوگنکل نے پاکستان کے ڈی جی ڈیفنس انڈسٹری سے ملاقات کی ،اس موقع پر انہیں سرکاری پروٹوکول بھی دیا گیااور اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا، پاکستانی پاک سرزمین پر نائیجریا کے ہزاروں شیعہ مسلمانوں کی قاتل اور شیخ زکزکی کی دشمن آرمی کے نمائندوں کی آمد اور پاکستانی دفاعی صنعت سے اسلحہ خریدنے کی خبروں پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ کیا اب پاکستانی اسلحہ نائیجریا میں مظلوم شیعہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائیگا ؟ اس بات کو پاکستانی عوام قبول نہیں کرتے عوام نے مطالبہ کیا پاکستان کی پانچ کڑوڑ شیعہ مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت ِپاکستان اس وفد سے نائیجرین مسلمانوں کے  بے دردانہ قتل عام پر احتجاج کرتے ہوئے عزت و احترام سے واپس انکے ملک روانہ کردے اور ان سے کسی بھی قسم کی دفاعی خرید و فروخت نا کی جائےہم پاکستان کی پاک سرزمین پر ایسے اسرائیلی نمک خور کو برادشت نہیں کرسکتے ۔

d94cdc9f-0008-4db2-8c03-62b07e79f9b0.jpg

واضح رہے کہ 13 دسمبر 2015ء بروزاتوار کو زاریا شہر میں واقع ان کے گھر کے قریب موجود تاریخی امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں مجلس عزاء جاری تھی جس میں لاکھوں لوگ جمع تھے۔ اطلاعات کے مطابق نائجیریا کی فوج نے اسی وقت شیخ ابراہیم زکزاکی کے گھر کا گھیراؤ کر کے شیعہ تنظيم تحریک اسلامی کے کارکنوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کیا ذرائع کے مطابق علاقہ میں کشیدگی جاری رہی فوج کے حملے میں 450 سے زیادہ شیعہ افراد شہید اور 1200 زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی بیوی زینت ابراہیم، ان کے چوتھے اور اکلوتے غازی بیٹے سید علی اور بہو بھی شہید ہونے والے افراد میں شامل تھے۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر نسیبہ کے مطابق 1000 سے زیادہ افراد شہید کئے گئے۔

اس کے بعد اسلامی تحریک نائجیریا نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ

نائجیرین سیکیورٹی فورسز کے شیخ زکزکی کے گھر پر حملے کے نتیجے میں تحریک کے سینئیر رہنما شیخ محمد توری، ڈاکٹر مصطفی سعید، ابراہیم عثمان اور جمعہ گلیما کی شہادت واقع ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو گولیوں اور تلواروں سے قتل کرنے کے بعد فوج نے شیخ ابراہیم زکزاکی کو شدید زخمی کر کے گھسیٹ کر اسی زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس سے پہلے بھی 9 بار انہیں گرفتار کیا جا چکا ہے اور ہر بار کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔

اس حملے کا جواز یہ بنایا گیا کہ یہ نہتے شیعہ، آرمی کے جنرل کو مارنا چاہتے تھے۔ حالانکہ یہ بات واضع ہے کہ شیعہ نائجیریا میں اقلیت میں ہیں اور انتہائی پر امن ہیں۔ نائجیریا کی فوج جو بوکو حرام سے نہیں لڑ سکتی وہ اب نہتے بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے اور عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔ کچھ تجزیہ نگار کا کہنا ہے ہو سکتا ہے یہ وحشیانہ بربریت کسی شیعہ مخالف عربی ملک کے کہنے پر کی جا رہی ہو۔

شیخ زکزاکی پر پہلے بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں جن میں شیخ ابراہیم زکزاکی زخمی بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن اس وقت و ہ نائیجرین آرمی کی قید میں ہیں جہاں انکی حالات تشویشناک ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button