صیہونیوں کی ایک اور گھناؤنی حرکت
صیہونی حکومت نے ایک فلسطینی بچے کو بارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
صیہونی حکومت نے احمد مناصرہ نام کے تیرہ سالہ بچّے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صیہونی فوجیوں پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس سے قبل اس بچّے پر صیہونی فوجیوں کی جانب سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی۔ صیہونی فوجیوں نے اسی الزام کے تحت ایک فلسطینی خاتون کو بھی گیارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران صیہونیوں کی جانب سے اس قسم کے اقدامات میں شدت آگئی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر دو ہزار پندرہ سے اب تک صیہونی حکومت نے دو سو ساٹھ فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جن میں متعدد بچّے اور خواتین شامل ہیں۔ ان حملوں میں متعدد فلسطینی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں اور متعدد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر غزہ کے شہریوں نے بھی عالمی صلیب سرخ کے دفتر کے سامنے اکھٹا ہوکر صیہونی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین ایسے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر صیہونی غاصب حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ صیہونی حکومت فلسطینی قیدیوں کو غیرانسانی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے اور یہ طریقہ کار تمام عالمی قوانین کے برخلاف ہے۔ فلسطینی مظاہرین نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صیہونی حکومت کو اپنے غیرقانونی اقدامات سے باز رکھے اور قیدیوں کی آزادی کے لئے سنجیدگی سے کام کرے۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت نے اب تک سات ہزار فلسطینیوں کو غیرقانونی طور پر اور فرد جرم عائد کئے بغیر جیل میں رکھے ہوئے ہے۔ ادھر بیت المقدس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق، صیہونی عناصر نے ایک بار پھر مسجد الاقصی پر حمل کردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ صیہونی آبادکاروں نے فوجیوں کی مدد سے قبلہ اول کے مختلف صحنوں اور مقدس مقامات پر حملہ کردیا۔ صیہونی آبادکار باب المغاربہ کی جانب سے مسجد الاقصی میں داخل ہوۓ تھے۔ اس موقع پر صیہونی فوجیوں نے سیکورٹی اقدامات میں اضافہ کردیا اور موصولہ خبروں کے مطابق فلسطینی خواتین اور مردوں کے شناختی کارڈ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے مسجد الاقصی پر صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں شدت آگئی ہے جنہیں صیہونی حکومت کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔








