پاکستان

آل سعود کا ایک اور فتنہ بے نقاب،مکہ پر میزائل حملہ کا جھوٹ پکڑا گیا!!

شیعیت نیوزـ: سعودی رسمی خبررساں ادارے ’’واس‘‘ کے مطابق 27اکتوبر بروز جمعرات کو سعودی عرب کی قیادت میں یمن پر بمباری کرنے والے چند ملکی اتحاد کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’’مکہ مکرمہ سے 65 کلومیٹر دور ایک میزائل کو مارگرایا گیا جو مکے کی جانب آرہاتھا ‘‘ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ میزائل یمن سے حوثی قبائل نے فائر کیا تھا ‘‘ترجمان نے مزید کہا کہ ’’اس میزائل کومکہ مکرمہ سے 65کلومیٹر دور گرنے سے پہلے فضا میں ہی تباہ کردیا گیا ‘‘

اس خبر کی اب تک آزاد زرائع سے کسی بھی قسم کی تصدیق نہیں ہوسکی ،بلکہ متعدد زرائع ابلاغ و تجزیہ کار اس خبر کو شکوک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔

ادھر اسی دوران یمن سے حوثی اتحاد نے فورا بیان دیا کہ ’’انہوں نے مکہ مکرمہ کی جانب کسی قسم کا کوئی میزائل فائر نہیں کیا بلکہ جدہ ائیرپورٹ کی جانب میزائل ضرور فائر کیا ہے ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب عالمی سطح پر اپنے جنگی جرائم کو چھپانے اور یمن جنگ میں شکست کو چھپانے کے لئے من گھڑت پروپگنڈہ کررہا ہے جس کا مقصد سادہ مسلمانوں کے جذبات کو بڑھکانا ہے ‘‘

ترجمان نے مزید کہا کہ’’ مقدس سرزمین مکہ مکرمہ میں ہمارے کسی قسم کے عسکری اہداف نہیں ہیں اور ہم اس قسم کے کسی بھی گناونے عمل کا مرتکب نہیں ہوسکتے ‘‘

چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے :

الف:یمن پر بمباری کے وقت بھی سعودی عرب نے ’’دفاع حرمین ‘‘کے نام سے فوجیں اکھٹی کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کے رضاکار جمع کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی سعودی عرب چاہتا تھا کہ ’’دفاع حرمین ‘‘کے نام سے ایک کرایے کی فوج تیار کرے جو یمن میںزمینی حملہ کرکے اس کے مقاصد کو حاصل کرے ۔

ب:بعض اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں بعض گروہوں کی جانب سے دفاع حرمین کا شور مچایا گیا جس خود سعودی عوام پہلے حیرت زدہ تھے اور پھر بعد میں اس سادہ لوحی پر خندان تھے ،یہاں تک کہ عرب دنیا کے معروف کامیڈین شوز خاص کر مصر ی چینلز میں اس کا مزاق اڑیا گیا اور ایک کامیڈین نے کہا کہ کرایے کی فوج حاصل کرنے کے لئے ہمارے پاس بھی ایک مقدس سرزمین ہونی چاہیے تھی تاکہ اپنی جنگ بے وقوفوں کے جذبات سے لڑیں ۔

ج:ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی عرب نے یمن پر یمنی حکومت کی بحالی کے نعرے سے جنگ شروع کی تھی اور کہا تھا کہ تین ماہ میں حکومت بحال ہوگی لیکن اب دوسال ہونے کو ہیں کہ اس جنگ کا اختتام نہیں ہوپارہا جو ہزاروں افراد کو کھاگئی ہے ۔

د:یہ جنگ سعودی عرب کے لئے مالی اور سیاسی طور پر سخت بحران سے دوچار کررہی ہے ۔

جوان شہزادہ محمد بن سلمان جو خود کو اس جنگ کی جیت کی شکل مسند شاہی پر دیکھ رہا ہے سخت پریشان ہے کیونکہ اندرونی طور پر مسند شاہی کی کشمکش میں اپنے حلیف محمد بن نایف کو نیچا دیکھانے اور خود کو باصلاحیت ثابت کرنے کے تقریبا تمام حربے مسلسل ناکام ہوتے جارہے ہیں جبکہ امریکہ محمد بن نایف کو اس پر ترجیح دیتا ہے جس کی پوری تربیت امریکہ میں ہونے کے ساتھ ساتھ چند سالہ تجربہ بھی رکھتا ہے اور امریکی حلقوں کے انتہائی قریب بھی ہے ۔

ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم سعودی عرب کی جانب سے ایک بار پھر دفاع حرمین کے نعرے کو بلند کرتے ہوئے دیکھیں تاکہ سادہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاسکے اور خود سعودی عرب کے اندر مہنگائی اور دیگر مالی و اقتصادی دبا کے شکار عوام کے غصے کو دبایا جاسکے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button