ایک دن میں 100 جنازے اُٹھائے لیکن وطن کے خلاف نہیں گئے، ملت تشیع سے سبق سیکھو!

23 اگست, 2016 00:00

شیعیت نیوز: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بشمول آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی رینجرز بلال اکبر اور پاکستان کے خلاف الفاظ استعمال کیئے اور مردہ باد پاکستان کا نعرہ لگوایا ، جس پر ایم کیو ایم کے قائد نے اپنے معافی نامہ میں موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، مسلسل گرفتاریوں اور ان کی مشکلات دیکھ کر شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے اور بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ساتھیوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ان کا ذہنی تناؤ مزید بڑھ گیا تھا۔

مگر ہمارا سلام ہے ملت جعفریہ اور اسکے قائدین پر جنہوں نے ملک پاکستان میں ۲۰ ہزار سے زائد لاشے اُٹھانے، ریاستی سرپرستی میں دہشتگرد تنظیموں کے منعظم حملوں اور اسکے نتیجے میں ایک علاقہ سے دوسرے علاقے  ہجرت سمیت نااصافیوں، حقوق کی پامالی، ایک دن میں سو سو لاشے اُٹھانے  کے باوجود کبھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے اور ملک کے خلاف نعرے لگانے کا درس نہیں دیا ، اور یہ پیغام ہمیں اور ہمارے رہنماوں کواہلیبت علیہ سلام نے دیا کہ ظلم کے مقابل رہو لیکن اپنے وطن اور مٹی سے غداری نہیں کرو، یہی وجہ ہے کہ ہزروں، ڈاکڑز ، انیجیئرز، وکلاٗ استاتذہ اور علماٗ و ذاکرین سمیت جوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لاشے اُٹھتے رہے مگریہی نعرہ لگاتے رہے کہ پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے، ہاں ہم نے احتجاج ضرور کیا، اپنے حقوق ضرور طلب کیئے، اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں پر شور ضرور مچایا کیونکہ یہ ہمارا آئینی و قانوں حق ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

یہ نعرہ ۸۰ دن سے زائد بھوک ہڑتال پر بیٹھے شیعہ رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی لگایا، کیا ان پر ذہنی دباو نہیں تھا، اور وہ پریشان نہیں تھے لیکن وطن کے خلاف آواز اُٹھانے کے بجائے انہوں نے وطن کے دشمنوں اور غداروں کو لکارا کیونکہ  وہ جانتے ہیںکہ ہم ہی اس مٹی کے وارث ہیں ، کیا ہوگیا ! اگر اس مادر وطن میں چنددہشتگردوں اور غدار حکمرانوں نے اسے یرغمال بنالیاہم جانتے ہیں کہ اس وطن کو ان خائنوں سے چھوڑوانا ہے نا کہ اس ملک کے خلاف جانا ہے۔

سانحہ کوئٹہ اور اسکے بعد ہونے والا ملک گیر دھرنا یاد نہیں؟ کیا ملت تشیع کے پاس اس وقت طاقت نہیں تھی ؟جو چاہے کرسکتے تھے لیکن ملک میں ایک پتہ تک نا ہلا ، جبکہ اس موقع پر یہی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تھے جنہوں نے قائدیں ملت کے خلاف بکواس کی اور انہیں شیعہ قوم کا غدار کہااور تاریخ  نے انہیں پاکستان کا غدار قرار دیدیا۔

لہذا الطاف حسین سمیت دیگر رہنماوں کو وطن سے محبت اور وفاداری ملت تشیع سے سیکھنی چاہئے یہ وہ قوم ہے جسکی اس ملک میں عیدیں تک محرم بنائی گئیں لیکن کبھی وطن کے خلاف کسی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوئے۔

اس موقع پر ہم ملک کے مقتدر حلقوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کو بھی مخاطب کرنا چاہیں گے جو شیعہ مسلمانوں کی حب وطنی پر شک کرتے ہیں، الطاف حسین کا واقعہ عبرت ہے جو چند سو کارکناں کی ہلاکت ، ماورائے عدالت قتل اور دیگر مظالم پر ملک کے خلاف آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگیا لیکن ملت تشیع ابھی تک ریاستی جبر و ستم، ہزاروں جوانوں کے قتل اور انکے قاتلوں کی ریاستی سرپرستی کے باوجو د ملک پاکستان کی عظمت و سربلندی کا سبب بن رہی ہے اور بنتی رہے گی کیونکہ پاکستان ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔

5:16 شام مئی 3, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔