سانحہ لانڈھی 36B: حقائق کیا ؟ جاننے کے لئے یہ خبر پڑھیں
شیعیت نیوز: لانڈھی 36 بی میں 11 شیعہ افراد زخمی ہیں جن کا علاج مقامی اسپتالوں میں چل رہا ہے گزشتہ روز مسجد کے برابر میں پارکنگ کیلئے دیوار اٹھانے پر جن شر پسندوں نے فائرنگ کی اور مین روڈ پر موجود زیشان حیدر کی ڈیکوریشن کی دکان اور المرتضیٰ میرج لان نذر آتش کیا تھا ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی واقعے کو شیعہ سنی رنگ دینے والے شہر میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا چاہ رہے ہیں۔
لانڈھی اثناء عشری مسجد متازعہ نہیں 1972 سے یہ مسجد موجود ہے اور یہاں باجماعت نماز باقائدگی سے ہوتی ہے اہل تشیع فقہ میں ناجائز زمین پر نماز پڑھنا شرعی طور پر جائز نہیں. لہذا معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والےحقائق سے پر دہ پوشی کر رہے ہیں۔
اگر آپ حضرات لانڈھی 36 بی مسجد اثنا ء عشری کا دورہ کریں تو آپ کے سامنے حقائق با آسانی آجائیں گے دراصل مسجد کے ساتھ زمین جو مسجد ہی کی ملکیت ہے اس پر ایک تکفیری گروہ جس کی پشت پناہی ایک سیاسی جماعت کر رہی ہے وہاں قبضہ کرنا چاہتی ہے جس کے پاس اس جگہ کے دستاویزات تو دور کی بات اس کے قریب علاقہ مکینوں کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، دوسری جانب مسجد کے اطراف میں موجود کسی بھی ایک شیعہ و سنی گھرانوں کو مسجد کی دیوار بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، لہذا واقعہ کو سازش کے تحت فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے، ان فرقہ پرستوں نے بسیں بھر کے دیگر علاقوں سے افراد کو لانڈھی 36 بی پھنچایا شیعہ آبادی پر فائرنگ اور پیٹرول بموں سے حملے کیئے جو کہ ایک منظم سازش ہے جس کے نیجہ میں ایک اہل تشیع نوجوان محمد عباس اپنی جان سے ہاتھ بیٹھا.
ایسے نازک حالات میں حکومت ,قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں فورا کاروائی کریں اور حائق.میڈیا کے سامنے لائیں تاکہ اصل صورتحال سب پر عیاں ہو اور اس تکفیری گروہ اور ان کے پیچھے سہولت کاروں کا اصل چہرہ سامنے آئے اس کے ساتھ ہی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید محمد عباس سمیت زخمی ہونے والے 11 ایل تشیع پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو بھی گرفتار کریں.