پاکستان

کونسل انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم کا کوئی امیدوار ہی نہیں تھا تو ووٹ کس کو دیتا، کاچو امتیاز

 کونسل کے الیکشن کے لئے ایم ڈبلیو ایم کا کوئی امیدوار نہیں تھا تو میں کس کو ووٹ دیتا، میں نے پارٹی ڈسپلن کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی خلاف قانون کوئی فیصلہ کیا ہے۔ حلقے کے عوام کے مفاد میں جو فیصلہ تھا وہی کیا ہے، پارٹی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے پارٹی ڈسپلن کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی خلاف قانون کوئی فیصلہ کیا ہے۔ حلقے کے عوام کے مفاد میں جو فیصلہ تھا وہی کیا ہے، پارٹی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔مجھے کسی پارٹی ذمہ دار کا کوئی فون نہیں آیا اور نہ ہی میری پارٹی رکنیت کے خاتمے کے حوالے سے مجھے کوئی اطلاع دی گئی ہے۔

کاچو امتیاز حیدرنے کہا کہ اس غلط فہمی کو دُور کرنے کی ضرورت ہے کہ کونسل کے انتخابات کے لئے ایم ڈبلیو ایم کا کوئی امیدوار نہیں تھا، دونوں امیدوار آزاد تھے، میں ہارنے والے امیدوار کو ووٹ دے کر اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا، لہٰذا علاقے کے مفاد میں سید افضل کو ووٹ دیا۔ سید افضل کے مقابلے میں جو آزاد امیدوار تھے، وہ اپنے پانچ ووٹ پورے نہیں کر پا رہے تھے۔ سید افضل کو اس لئے ووٹ دیا کہ وہ اپنی اے ڈی پی کا 50 فی صد حصہ میرے حلقے میں خرچ کرینگے، جب ان کے اے ڈی پی کی رقم میرے حلقے میں آئے گی، تب لوگ میرے فیصلے کو داد دینگے۔ میں ایم ڈبلیو ایم ٹکٹ ہولڈر ہوں، اگر ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے کوئی نامزد امیدوار کونسل کے الیکشن کے لئے ہوتا اور میں ووٹ نہ دیتا، تب میری غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے الیکشن میں ہم نے اپنا ضمیر نہیں بیچا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button