رہبر انقلاب کا حکیمانہ موقف اور لوگوں کی بیداری فتنوں کی شکست کا باعث بن گئے

19 فروری, 2016 00:00

شیعیت نیو ز:  ایران کے شمالی صوبہ کرمانشاہ کےتحصیل پاوہ کے اہلسنت امام جمعہ ماموستا ملا قادری نے 17فروری دوپہر سے پہلے ،گفتگو برائے زندگی امام موسی صدر کے تجربے  کی تحقیق نامی کانفرنس میں کہ جو قم کے اسلامی علوم و ثقافت کے تحقیقی مرکز میں منعقد ہوئی   کہا :امام موسی صدر کا پورا خاندان تقریب کا حامی اور دین کی ترقی یافتہ سوچ کا حامل تھا ۔

انہوں نے لبنان کے "مفتی شیخ حسین خالد "کے نام "امام موسی صدر” کے خط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : آپ نے اس خط میں بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ تاریخ کے مستقبل میں اپنا مقام بنانے کے لیے اپنے راستے کی شناخت حاصل کریں اور ایک دوسرے پر اعتماد کریں تا کہ یہ اتحاد وجود میں آ سکے ۔

پاوہ کے امام جمعہ نے اس بات کا ذکر کرنے کے ساتھ کہ جب انہوں نے لبنان کی سر زمین پر قدم رکھا تو لبنان کو بہت ساری مصیبتوں کا سامنا تھا ،کہا ؛ امام موسی صدر  نےلبنان جانے کے بعد سوئے ہووں کو بیدار کیا اور بیداروں کو بصیرت دی ؛اس شجاعانہ محنت کا نتیجہ بیروت کی ۳۳ روزہ جنگ کے بہادروں کی صورت میں ظاہر ہوا ۔

ماموستا ملا قادری نے یہ بتانے کے بعد کہ امام موسی صدر صرف ایک خاص انسان نہیں تھے بلکہ وہ ایک ملت اور پورا سماج تھے کہا ؛ ہمارا زمانہ علوم و آگاہی بخشی کی ترقی  اور ارتباطات کی نزدیکی کا زمانہ ہے ،لیکن انہی ارتباطات کی طرف سے اسلامی ثقافت پر حملے ہوئے ہیں ۔

اس نے یاد دلایا : کچھ افسوسناک مسائل کہ جو آج ہم یمن ،بحرین ، شام ، عراق اور لیبیا میں دیکھ رہے ہیں ان کی وجہ اسلام کی اصلی ثقافت سے دوری ہے۔

پاوہ کے امام جمعہ نے بیان کیا : آج اسلامی معاشرے کی کچھ مشکلات کی وجہ غفلتیں ہیں ، اس لیے کہ آج لوگ اپنی علمی خوراک کو دینی رہبروں کے علاوہ دوسروں سے لے رہے ہیں ۔ گولی کو گفتگو کی جگہ نہیں لینا چاہیے یا گفتگو گولی کی جگہ بھی نہ لے یہ علمائے دین ہیں کہ جو اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ تقریب مذاہب اصل میں عوام اور علمائے مذاہب کے درمیان تقریب ہے ،کہا : مذاہب میں آپس میں کوئی مشکل نہیں ہے اس لیے کہ ان کا مقصد ایک ہی ہے مذاہب خیر ہیں بشرطیکہ علماء کا استنباط جنگ کا وسیلہ نہ بن جائے اور ہم اپنے مذہب کو دوسروں پر زبر دستی نہ تھوپیں ۔

اہل سنت کے اس عالم نے اسلامی نظام کی امت اسلامی کی ہدایت  کے سلسلےمیں سیاست کی تمجید کرتے ہوئے کہا : اگر عرب ملکوں اور خاص کر مصر میں کوئی حکیم رہبر ہوتا تو وہ اس قدر گرفتار نہ ہوتے انقلاب اسلامی کی ابتدا سے ہم نے ہزاروں سیاسی ،قومی ،مذہبی اور فیزیکی جنگی سازشوں کو دیکھا ہے ،لیکن یہ ملک ہر روز پہلے سے زیادہ طاقتور ہوا ہے اس لیے کہ ایک حکیم ،بصیر اور ہر دلعزیز  رہبر نے ہمیشہ اس ملک کو بلاوں سے محفوظ رکھا ہے جب کہ ان میں سے کوئی ایک بھی مشکل کسی دوسرے ملک پر آتی تو اس کا شیرازہ بکھر جاتا  ۔

پاوہ کے امام جمعہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ داعش شیعہ اور سنی دونوں کا دشمن ہے یاد دلایا : مسلمانوں کو قتل کرنے کی دین میں کوئی اساس اور بنیاد نہیں ہے اور داعشیوں کا کوئی دین نہیں ہےوہ یا تو کچھ وہابی مفتیوں کے تربیت یافتہ ہیں یا مغربی جاسوسی ایجینسیوں کے دست پروردہ ہیں۔

10:15 شام جون 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔