فرحت اللہ بابر نے مولانا عبدالعزیز کے باغی ہونے کے ثبوت سینٹ میں دیدیے
شیعیت نیوز: سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے ثبوت دیئے کہ مولانا عبدالعزیز فرار مجرم ہیں۔
فرحت اللہ بابر جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ہیں انہوں نے کہا چار ایسے واضح ثبوت ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے لعل مسجد کے مولوی عبدالعزیز فراری مجرم ہیں ،انکے خلاف کارائی کیوں نہیں جاتی۔
یہ قرار داد فرحت اللہ بابر نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ۳۰ دسمبر ۲۰۱۵ کو سینٹ میںکی گئی اس تقریر کے ردعمل میں پیش کی جس میں وزیر داخلہ نے لعل مسجد او ر مولانا عبدالعزیز کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف کوئی ایف آر درج نہیں ثبوت نا ہونے پر ہم انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتے۔
فرحت اللہ با بر نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف ثبوت کے دستاویز پیش کئے، جس میں انکے خلاف ۱۹ دسمبر ۲۰۱۴ کو کٹوائی گئی سول سوسائٹی کی ایف آر کی کاپی ، کورٹ کا انکو اشتہاری قرار دینے کا حکم نامہ، انکی گرفتاری کا حکم نامہ،اشتہار کی کاپی جس میں مولانا عبدالعزیز کو فرار ی قرار دیا گیا تھا، موبائل فون کمپنیوں کی آفیشل مواصلات کی کاپی جس میں موبائل کمپنیوں کو مخصوص علاقوں میں سروس معطل کرنے کا کہا گیا تاکہ لعل مسجدمیں مولانا عبدالعزیز کے اشتعال انگیز خطبہ کے پھیلاوکو روکا جاسکے، اور اسکے علاوہ داعش کے ساتھ انکی اعلانیہ ہمدری کے ثبوت پر مشتمل دستاویز بھی سینٹ میں پیش کیئے ۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے اراکین بھی اس معمالے پر چوہدری نثار کے خلاف پارلیمنٹ میں تقاریر کرچکے ہیں اور ثبوت بھی پیش کیئے ہیں جبکہ اجلاس سے بائیکاٹ بھی کیا۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ دستاویز وزارت داخلہ کے دفتر میں دستیاب ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیر داخلہ کی سینٹ میں ۳۰ دسمبر کی تقریر حقائق سے مبرا تھی۔
انہوںنے چیرمین سینٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے فوری کمیٹی تشکیل دیں، چیر مین سینٹ نےوزیر برائے پارلیمانی امور کو ہدایت جاری کیں کہ وہ فوری اس مسئلہ پر جامع جواب پیش کریں۔