دنیا

نائیجیریا:اربعین حسینی کے موقع پر اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراھیم زکزکی کے خطاب کے اہم نکات

نائیجیریاکے شہر زاریا میں نواسہ رسول اکرم (ص) حضرت امام حسین(ع) اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر اسلامی تحریک نائیجیریا کے سربراہ اور معروف اسلامی اسکالر شیخ ابراھیم زکزکی نے خصوصی خطاب کیا اس موقع پر نائیجیریا کے متعدد مقامات سے لاکھوں کی تعداد میں عاشقان حسینی پہنچے ہوئے تھے جو کئی دن کی پیدل مسافت کے بعد زاریا شہر پہنچے تھے تا کہ اربعین امام حسین (ع) کے مرکزی اجتما ع میں شریک ہو کر شہفائے کربلا سے تجدید عہد کر سکیں۔
شیعت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق زاریا شہر میں جمع ہونے والے لاکھوں عزاداران امام حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ زکزکی نے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی بھی مذہبی تہوار نہیں ہے کہ جس میں شرکت کے لئے کروڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن یہ صرف کربلا ہے کہ جہاں کروڑوں کی تعداد میں عاشقان حسینی گھروں سے نکل کر �آتے ہیں اور کئی کئی میل عراق کے شہروں میں پید ل سفر کرنے کے بعد حرم امام حسین علیہ السلام پہنچتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس برس مشہد سے پیدل چلنے والے عاشقا ج حسینی نے سترہ سو کلو میٹر کا طویل راستہ پیدل طے کرتے ہوئے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم مقدس میں حاضری دی ہے اور اسی طرح ہم نے نائیجیریاکے مختلف شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں نکل کر زاریا پیدل پہنچ کر دنیا کو اربعین حسینی اور کربلا کا پیغام پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ یا حسین (ع)کہنا شرک ہے تو وہ جان لیں کہ ہم صرف یا حسین (ع)نہیں بلکہ لبیک یا حسین کہتے ہیں اور یہ امام حسین علیہ السلام کی اس صدائے ہل من ناصر کا جواب ہے جو انہوں نے سنہ 61ہجری میں کربلا میں دی تھی کہ جب آپ کے اصحاب اور با وفا ساتھیوں کو اسلام دشمن یزیدیوں نے شہید کر دیا تھا، تاہم وہ صدائے ہل من ناصر آج پوری دنیا میں گونج رہی ہے اور ہم حسینیوں نے اس صدا پر حسین علیہ السلام کی مدد کرنے کا عہد کر رکھا ہے اور ہمیشہ لبیک یا حسین(ع) کہتے رہیں گے۔
شیخ زکزکی نے منافقین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عیسائی کیوں اربعین امام حسین علیہ السلا م کے موقع پر پیدل سفر کرتے ہیں اور عزاداران امام (ع) کی طرح اربعین میں شریک ہوتے ہیں تو ان سب کو یہ جان لینا چاہئیے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام اور قربانی ظلم کے خلاف تھی اور جو بھی دنیا میں ظالموں کا مخالف ہو گا وہ یقیناًامام حسین علیہ السلام کی طرف مائل ہو گا خواہ اس کا رنگ ونسل اور مذہب وغیرہ کچھ بھی ہو۔
مسیحی عوام کی اربعین حسینی میں شرکت کے حوالے سے شیخ ابراھیم زکزکی نے کہا کہ مسیحیوں کا امام حسین (ع) سے اس وقت سے تعلق ہے کہ جب امام حسین (ع) مدینہ ست کربلا روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مقام پر ایک گھر کے قریب قیام کیا یہ گھر ایک عیسائی خاندان کا تھا آپ (ع) نے اس گھر سے پانی طلب کیا تو ای ک خاتون نے جواب میں کہا کہ میرے بیٹے دور دراز علاقے میں جا کر پانی کی تلاش کرتے ہیں اور ابھی بھی پانی لینے گئے ہوئے ہیں وہ آئیں تو آپ(ع) کی خدمت میں پانی پیش کیا جائے گا تاہم امام حسین علیہ السلام نے زمین پر ایک ضرب لگائی جس کے نتیجے میں چشمہ پھوٹ پڑا اور پانی جاری ہو گیا جب اس خاتون کے بچے گھر لوٹے تو سارا ماجرا دیکھ کر حیران ہوئے اور ماں سے کہنے لگے کہ یہ یقیناًحضرت مسیح (ع) ہیں تب ان کی والدہ نے اپنے بچوں کو بتایا کہ یہ امام حسین علیہ السلام ہیں کہ جو پیغمبر اکرم حضرت محمد (ص) کے نواسے ہیں ، پس اس پورے خاندان نے امام حسین (ع) کے راستے کو اختیار کیا اور آپ (ع) کے ساتھ سفر کا ارادہ کیا اور کربلا کے میدان میں ایک عیسائی نوجوان نے امام حسین علیہ السلام کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا۔
اسی طرح ایک عیسائیوں کی امام حسین (ع) سے عقیدت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے شیخ ابراھیم زکزکی نے کہا کہ جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا اور آپ (ع) کا سر اقدس تن سے جد اکر دیا گیا اور شام لایا گیا تو اس وقت شام لاتے ہوئے راستے میں عیسائیوں نے امام علیہ السلام کی شان اقدس میں اپنے اپنے گاؤں اور قصبوں میں شاندار استقبال کیا اور احترام کرتے رہے، اسی طرح ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جب امام حسین علیہ السلام کا سر اقدس لایا جا رہا تھا تو ایک عیسائی خاندان نے کچھ پیسے دے کر آپ(ع) کا سر اقدس یزیدی فوجیوں سے بطور ایک رات کی مہمان نوازی کے لئے اپنے گھر میں لیا اور پھر پوری رات امام (ع) کے سر مبارک کو صاف کرتے رہے اور اس سے نکلنے والے نور سے مستفید ہوئے اور اللہ سے دعا کرتے رہے کہ اس سر اقدس کی بدولت ان پر رحمتیں نازل ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بسنے والے عیسائی کہیں امام حسین علیہ السلام کو حضرت مسیح(ع) سے تشبیہ دیتے ہیں تو کچھ یحییٰ بن زکریا سے اور یہ سب مسیحیوں کی امام حسین علیہ السلام سے والہانہ عقیدت ہے۔
شیخ ابراھیم زکزکی نے اس برس نائیجریا کے مختلف مقامات سے کوسوں میل کا سفر پیدل طے کر کے زاریا پہنچنے اور اربعین حسینی میں شرکت کرنے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس برس نائیجیریا کے عوام نے تمام سالوں کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور تقریبا 54لاکھ افراد مختلف شہروں سے پیدل سفر کرتے ہوئے زاریا پہنچے ہیں جو لوگوں کی امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا سے والہانہ محبت اور عشق کا ثبوت ہے ، انہوں نے زاریا آنے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام پر راستے میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کبھی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہوں گے اور حسینیوں کا سفر عشق جاری و ساری رہے گا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button