لاہور ایئرپورٹ، ایئربیسز، میڈیا ہاؤسز، صحافیوں، سیاستدانوں پر حملوں کے منصوبے کا انکشاف

30 نومبر, 2015 00:00

 القاعدہ اور تحریک طالبان کے سلیپر سیلز کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ کی طرز پر لاہور ایئرپورٹ پر حملے کیساتھ ساتھ شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب میں ائربیسز اور سلیکشن سنٹرز پر حملے کئے جا سکتے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو اس ماہ 3 الرٹ بھیجے گئے ہیں جن میں لاہور ایئرپورٹ، ائربیسز اور سلیکشن سنٹرز پر حملوں کے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 4 سے زائد اعلیٰ تربیت یافتہ دہشتگردوں کیساتھ پنجاب میں ان تنظیموں کے سلیپر سیلز کے افراد بھی حملوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ معلومات سلیپر سیلز کے گرفتار ہونیوالے 6 ارکان سے کی گئی تحقیقات کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔ خفیہ اداروں نے اس حوالے سے کچھ معلومات پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے علاقوں ننگرہار، کنٹر اور نورستان سے بھی حاصل کی ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے جاری الرٹس کے مطابق شورکوٹ، سرگودھا، ملتان اور لاہور میں ایئر بیسز اور فوج کے سلیکشن سنٹرز پر حملے کئے جا سکتے ہیں۔ دہشتگرد سیالکوٹ، گجرات اور لاہور میں فوجی سہولیات کے مراکز اور اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچانے کیلئے چین جیسے دوست ممالک کے سفارتخانوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ فوجی مراکز پر ممکنہ حملے افغان این ڈی ایس او بھارتی ’’را‘‘ کے مشترکہ آپریشن کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری کیٹیگری میں دہشتگرد سیاستدانوں کو بھی ٹارگٹ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے خیبر پی کے میں مخصوص مذہبی سیاسی پارٹی کے رہنما اور وہاں کی حکمران پارٹی کے سیاستدانوں پر حملوں کے خدشات زیادہ ہیں۔ میڈیا آرگنائزیشنز اور دہشتگردی سے متعلق رپورٹنگ کرنیوالے صحافیوں پر بھی حملوں کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی الرٹس میں پنجاب حکومت کو لاہورائیرپورٹ پر خصوصی سکیورٹی اقدامات کا کہا گیا ہے۔

11:57 شام اپریل 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔